جرمنی کا یوکرین کو پہلی مرتبہ بھاری ہتھیارمہیّا کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

جرمنی نے منگل کے روز یوکرین کو پہلی مرتبہ بھاری ہتھیاروں کی پہلی کھیپ بھیجنے کا اعلان کیا ہے تاکہ وہ روسی حملوں سے اپنا دفاع کرسکے۔

جرمن وزیردفاع کرسٹین لیمبریخت نے کہا کہ حکومت نے پیرکو کمپنی کے ایم ڈبلیو کے اسٹاک سے طیارہ شکن گنوں سے لیس گیپارڈ ٹینکوں کی ترسیل کی منظوری دے دی ہے۔

امریکی وزیردفاع لائیڈ آسٹن نے جرمنی کے’’50 چیتا نظام بھیجنے‘‘کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔انھوں نے مغربی جرمنی میں امریکی رامسٹین ایئربیس پر لیمبریخت اور اپنے دوسرے ہم منصبوں کے ساتھ بات چیت کے بعد کہا کہ یہ نظام یوکرین کودفاعی حقیقی صلاحیت مہیّا کرے گا۔

کیل یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ برائے سکیورٹی پالیسی کے فیلو مارسیل دیرسس نے کہا کہ جرمنی کے فیصلے کی اصل اہمیت اس میں نہیں کہ گیپارڈز میدان جنگ میں کیا کریں گے بلکہ اس کے بھیجے گئے اشارے میں ہے۔

انھوں نے کہا کہ یورپ کی سب سے بڑی معیشت یوکرین کی حمایت کے بارے میں سنجیدہ ہو رہی ہے اورمزید مدد بھی مہیا کرنے پرآمادہ ہورہی ہے۔

جرمنی میں یوکرین کے سفیر سمیت ناقدین نے برلن پر الزام لگایا ہے کہ وہ یوکرین کو بھاری ہتھیار دینے میں پس وپیش سے کام لے رہا ہے اور دیگراقدامات سے پیچھے ہٹ رہا ہے جن سے کیف کو روسی افواج کو پیچھے دھکیلنے میں مدد مل سکتی ہے مثلاً روس سے توانائی کی درآمدات پر پابندی وغیرہ ۔

ان کا کہنا ہے کہ برلن پوری قوت سے اپنی متوقع قیادت کو ظاہر نہیں کررہا ہے اور روسی گیس کی درآمد روکنے کے معاشی اثرات پرخدشات کے پیش نظراس کی ہچکچاہٹ یوکرینی جانوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔

چانسلر اولف شلز کا اس کے جواب میں کہنا ہے کہ مسلح افواج، بنڈس ویہر پہلے ہی محدود وسائل کے ساتھ ہیں جبکہ صنعت جوہتھیارمہیا کرسکتی ہے،ان میں سے گولہ بارود کی کمی ہے اور اسے اپ گریڈ کرنے کی ضرورت ہے۔

خطرہ

شلز ایک سوشل ڈیموکریٹ ہیں۔ان کی جماعت نے دوسری جنگ عظیم کے بعد طویل عرصے سے روس کے ساتھ مفاہمت کی حمایت کی تھی۔انھوں نے قبل ازیں خبردار کیا تھا کہ ماسکو جرمنی کو اس تنازع میں فریق کے طور پر خیال کرے گااور یہ سوچ ’’تیسری جنگ عظیم‘‘ کا باعث بن سکتی ہے۔

تاہم ان کے سہ فریقی حکمران اتحاد گرینزاور فری ڈیموکریٹس کے دو جونییر شراکت داروں کے ارکان نے بھی اس استدلال پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جرمنی کو مزید اقدامات کرنے کی ضرورت ہےجبکہ جرمن حکومت روس سے درآمدشدہ توانائی پر بھاری انحصار کو کم کرنے کے لیے کوشاں ہے۔

گیپارڈ کی ترسیل کا اعلان پیر کے روزان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے کہ دفاعی کمپنی رینمیٹل نے 100 پرانی مارڈر انفنٹری گاڑیوں اور 88 پرانے لیپرڈ 1اے 5 ٹینکوں کی یوکرین کو ترسیل کے لیے حکومت سے منظوری کی درخواست کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں