سعودی ویژن 2030

سعودی عرب میں ٹیکنالوجی کاروبار میں قدم رکھنے والی خواتین کی شرح یورپ سے زیادہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

انڈیورانسائٹ کی اپریل 2022 میں شائع شدہ ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سعودی عرب میں ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام یا کاروبار شروع کرنے والی خواتین کی شرح مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی انکشاف گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں سعودی خواتین کی شرکت کی شرح یورپی اوسط سے زیادہ ہے۔

مملکت کی وزارت مواصلات و اطلاعات کے مطابق 2021 کی تیسری سہ ماہی میں ٹیک سیکٹر میں خواتین کی شرکت کی شرح 28 فی صد رہی جو یورپ کی اوسط شرح 17.5 فی صد سے زیادہ ہے۔

سعودی عرب نے 2021 میں خواتین کو 139,754 نئے تجارتی لائسنس جاری کیے تھے جو ریکارڈ کے مطابق شرح نمو کی سب سے بڑی شرحوں میں سے ایک ہے۔وزارت نے بتایا کہ 2015ء کے بعد گذشتہ چھے سال کے دوران میں خواتین کی کاروبار کے لیے جاری تجارتی رجسٹریشن میں 112 فی صداضافہ ہواہے۔

اس کے برعکس رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ 2015ء میں خواتین کی ملکیت والے کاروباری اداروں کو 65,912 کمرشل رجسٹریشن کا اجراء کیا گیا تھا۔تحقیقی رپورٹ میں زیادہ تر تبدیلیوں کا سہرا سعودی عرب کے وژن 2030 سر باندھاگیا ہے۔اس کے تحت نجی شعبے کی سرمایہ کاری اور ٹیلنٹ کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک چھوٹی سی کمپنی سے ترقی اور50 سے زیادہ ملازمین والی ٹیکنالوجی کی فرم ایک کامیاب اسٹارٹ اپ کی ترقی کی عمدہ مثال ہے۔تحقیق سے پتا چلا کہ اگر مزید کمپنیاں ٹیکنالوجی کے شعبے میں قدم رکھتی ہیں تو سعودی عرب مشرق اوسط میں تکنیکی صنعت کاری کا علاقائی مرکز بننے کی صلاحیت کا حامل ہے۔مبیّنہ طورپر50سے زیادہ ملازمین ہونے کی صورت میں معاشی بدحالی کے وقت لچک میں مدد ملتی ہے۔اسی تحقیقی رپورٹ کے مطابق گذشتہ پانچ سال میں ٹیک میں 50 فی صد نئی کمپنیوں کی بنیاد رکھی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق وزارت سرمایہ کاری کی جانب سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے سعودی عرب کے قانونی نظام کو بہتر بنانے کے حالیہ اقدام کے نتیجے میں بین الاقوامی کاروباروں میں 50 فی صد سے زیادہ اضافہ متوقع ہے۔

نئے قانون کے تحت غیرملکی اور مقامی سرمایہ کاری دونوں کو یکساں مواقع ملیں گے کیونکہ سعودی عرب تیل کی برآمدات پر انحصار کم کرنے کے لیے اپنی معیشت کو متنوع بنانا چاہتا ہے۔اس سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو اپنے معاشی منصوبوں کا انتظام کرنے، فروخت کرنے اور ٹھکانے لگانے اور کسی بھی ضروری جائیداد کے مالک ہونے کی آزادی ملے گی جس سے آسان کاروباری سرگرمیوں کو یقینی بنایا جاسکے گا۔

یہ مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں دونوں کو تمام مجاز سرکاری حکام کی مکمل معاونت بھی مہیا کرے گا اور اس بات کو یقینی بنائے گا کہ دونوں مخصوص معاشی سرگرمیوں یا زونز کے لیے درکاراجازت ناموں ، رجسٹریشن، لائسنس اورمنظوری کے لیے ایک ہی شعبہ جاتی منظوری کے تقاضوں سے مشروط ہوں۔

گلوبل انٹرپری نیورشپ مانیٹر (جی ای ایم) کے مطابق 2016 سے 2020 کے درمیان کاروباری آپریشن میں شامل بالغ آبادی کا تناسب 13.7 فی صد سے بڑھ کر 22.4 فی صد ہوچکا تھا۔ انڈیورانسائٹ کی رپورٹ کے نتائج ٹیک کاروباری افراد اور 340 سے زیادہ کمپنیوں اور ان کے بانیوں کے ساتھ 70 انٹرویوز پر مبنی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں