مراکش: یونیورسٹی کیمپس میں قتل عام کی سازش ناکام، طلباء گرفتار، ٹوکے ضبط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی مراکش کے شہر اغادیر میں عدالتی پولیس کی ریاستی انتظامیہ نے طلباء کے ایک گروپ اور ایک ٹیکسی ڈرائیور کو اس وقت گرفتار کیا جب وہ شہر کی ابن زہر یونیورسٹی کے کیمپس میں "ٹوکے" لانے کی کوشش کر رہے تھے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہتھیار طلبہ کے دھڑوں کے درمیان تصادم میں استعمال کیے جانے تھے۔

مقامی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ حراست میں لیے گئے افراد کا تعلق ان گروہوں سے تھا جسے "مراکش کی یونیورسٹیوں میں علیحدگی پسندانہ سوچ کی حمایت کرنے والے دھڑوں" کے طور پر بیان کیا جاتا ہے۔

سٹی پولیس کو دی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس نے ابن زہر یونیورسٹی کے ایک ٹیکسی ڈرائیور اور دو طالب علموں سمیت تین افراد کو گرفتار کیا ہے، جن کے پاس روایتی طور پر تیار کردہ درجنوں سفید ہتھیار رکھنے میں ملوث ہونے کے شبے میں انہیں لوگوں کے خلاف جرائم کے ارتکاب کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ابتدائی معلومات کے تحت اغادیر کے یونیورسٹی ڈسٹرکٹ کے قریب ایک ٹیکسی ڈرائیور کی گرفتاری عمل میں لائی گئی۔ دو مشتبہ طلباء کو 23 ٹوکو پر مشتمل ایک تھیلا حوالے کررہا تھا۔

تینوں گرفتار افراد سے عدالتی تفتیش کی گئی جنہیں مجاز پبلک پراسیکیوشن نے لوگوں اور املاک کی حفاظت کے لیے ان خطرناک سفید ہتھیاروں کی تیاری اور قبضے کے تمام حالات اور پس منظر کو سامنے لانے کا حکم دیا تھا۔ جب کہ تفتیش ابھی جاری ہے۔ پراسیکیوشن نے حکم دیا ہے کہ ان تمام لوگوں کو گرفتار کیا جائے جو ان سفید ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث تھے یا ان کی تیاری پر اکسائے گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں