ایران جوہری معاہدہ

ایران نے نطنزمیں سنٹری فیوج پارٹس ورکشاپ زیرزمین منتقل کردی:آئی اے ای اے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ کے تحت جوہری توانائی کے عالمی ادارے(آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گراسی نے کہا ہے کہ ایران نے یورینیم کو افزودہ کرنے کی مشینوں کے پرزے بنانے کے لیے نطنز میں زیرزمین ایک نئی ورکشاپ قائم کی ہے۔

اس ورکشاپ میں کاراج میں حال ہی میں بند کی گئی ایک تنصیب کی مشینوں کا استعمال کیا گیا ہے۔اس کے بارے میں تہران کا کہنا ہے کہ اس تنصیب پر اس کے کٹر دشمن اسرائیل نے تخریبی حملہ کیا تھا۔ یہ ورکشاپ جدید سنٹری فیوجزکے لیے ضروری حصوں کو بنا سکتی ہے جو ایران کے یورینیم افزودگی پروگرام کے لیے مؤثر ہوسکتے ہیں۔

جوہری توانائی کے بین الاقوامی ادارے نے دو ہفتے قبل اپنے رکن ممالک کو آگاہ کیا تھا کہ ایران نے مشینوں کو نطنز میں منتقل کردیا ہے لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ انھیں کہاں منتقل کیا گیا ہے۔نطنز میں ایران کا زیرزمین ایندھن کی افزودگی کاپلانٹ (ایف ای پی) ہے جہاں ہزاروں سنٹری فیوجزمشینیں کام کررہی ہیں۔

گراسی نے ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ ورکشاپ ایف ای پی کےایک ’ہال‘ میں قائم کی گئی تھی۔ سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پلانٹ زمین سے قریباً تین منزل نیچے ہے اوراسے ممکنہ طورپر فضائی حملوں سے بچانے کے لیے بنایا گیا ہے۔

اب تک ایران نے ایف ای پی کو صرف افزودگی کے لیے استعمال کیا ہے۔ یہ ایک ایسی تنصیب ہے جہاں 2015 میں بڑی طاقتوں کے ساتھ طے شدہ جوہری معاہدے کے تحت ایران افزودہ یورینیم تیارکرسکتا ہے لیکن وہ صرف اس کی پہلی نسل کے آئی آر ون سنٹری فیوجز کے ساتھ یہ کام کرسکتا ہے جو ایران کے زیادہ جدید ماڈلز سے کہیں کم مؤثر ہیں۔

آئی اے ای اے کے چیف انسپکٹرماسیمواپارو نے ورکشاپ کے بارے میں بتایا کہ وہ بالکل تیار حالت میں ہے اور چالو ہونے کو تیار ہے۔

واضح رہے کہ امریکا کے سابق صدر ڈونالڈ ٹرمپ 2018 میں ایران سے طے شدہ جوہری معاہدے سے دستبردار ہوگئے تھے۔اب اس کی بحالی کے لیے گذشتہ ایک سال سے ویانا میں مذاکرات ہورہے ہیں لیکن فی الوقت وہ بعض امورپر تعطل کا شکارہیں۔ایران نے امریکا کی اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کے بعد اپنی جوہری سرگرمیوں پرعاید کی گئی مختلف قدغنوں کی خلاف ورزی کی ہے اور اس نے یورینیم کو افزودہ کرنے کی مقررہ حد کو بھی عبورکرلیا ہے۔

اب وہ ایف ای پی میں یورینیم کو جدید سنٹری فیوجز مشینوں پر بھی افزودہ کررہا ہے اوروہ دیگر مقامات پر بھی یورینیم کو افزودہ کررہا ہے حالانکہ وہ معاہدے کی شرائط کے تحت وہاں ایسا نہیں کرسکتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں