روس اور یوکرین

بحیرہ اسود میں روسی بیڑا ابھی تک فعّال ہے: برطانیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چند ہفتے قبل روس کو بحیرہ اسود میں ایک کاری ضرب کا سامنا کرنا پڑا تھامگر اس کے باوجود اس کا بحری بیڑا ابھی تک یوکرین پر حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کا آج 64 واں روز ہے۔

برطانوی وزارت دفاع نے جمعرات کے روز اپنی بریفنگ میں بتایا کہ چند روز قبل بحیرہ اسود میں روسی بحری جہاز کے ڈوب جانے کے باوجود وہاں موجود روسی بیڑا اب بھی یوکرین اور اس کے ساحلی اہداف کو نشانہ بنانے پر قادر ہے۔

ٹویٹر پر جاری بیان میں مزید بتایا گیا ہے کہ "روسی بحریہ کے تقریبا 20 آلات بحیرہ اسود آپریشنز زون میں موجود ہیں جن میں آبدوزیں بھی شامل ہیں۔ آبنائے باسفورس ابھی تک تمام غیر ترک جنگی جہازوں کے لیے بند ہے۔ اس وجہ سے روس اپنے غرق شدہ جہاز کا متبادل لانے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔

واضح رہے کہ "مونٹرو سمجھوتا" جنگوں کے دوران میں بحیرہ اسود میں جنگی بحری جہازوں کے داخلے کو ممنوع قرار دیتا ہے۔ یہ معاہدہ 1936ء میں طے پایا تھا۔ اس کے بنیادی فریقوں میں ترکی، سابق سوویت یونین، برطانیہ اور چھے دیگر ممالک ہیں۔ اس سمجھوتے کے تحت انقرہ بحیرہ اسود تک رسائی کو کنٹرول کرتا ہے۔ امن کے وقت یہاں سے تجارتی بحری جہاز بھی گزرتے ہیں۔ تنازع کی صورت میں جنگی جہازوں کو آبنائے باسفورس اور ڈیلٹا نیل سے گزرنے کی ممانعت ہوتی ہے۔

دو ہفتے قبل ڈوبنے والا روسی بحری جہاز موسکوا کی لمبائی 600 فٹ تھی۔ یہ جہاز دور طویل فاصلے تک مار کرنے والے 16 کروز میزائل لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ رواں سال 24 فروری کو یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کے آغاز کے بعد اس جہاز کو شہرت حاصل ہوئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں