وڈیو: یمنی لڑکی نے پیدائش کے 22 برس بعد پہلی بار ماں کو دیکھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کے صوبے لحج میں تبن ضلع میں مفت طبی کیمپ کے ذریعے ایک یمنی لڑکی کو پیدائش کے 22 برس بعد بینائی واپس مل گئی۔

کیمپ کا انعقاد کویت کی ایک فلاحی انجمن "الخیر" کی سرپرستی میں ہوا۔ اس میں دو دیگر اداروں کا بھی تعاون حاصل رہا۔ ماضی میں ڈاکٹروں نے یمنی لڑکی رندا حسین کے حوالے سے اس بات پر اتفاق ظاہر کیا تھا کہ اس کا علاج اور بینائی کی واپسی دشوار ہے۔ اس طرح وہ دو دہائیوں تک آنکھوں کی روشنی سے محروم رہی۔

رندا یونیورسٹی میں تیسرے سال کی طالبہ ہے اور اس کا مضمون عربی زبان ہے۔ وہ نابینا افراد کے لوازمات کے ساتھ تعلیم حاصل کر رہی ہے۔

رندا کا کیس ردفان میں الحبیلین شہر میں آنکھوں کے ایک طبی مرکز میں پیش کیا گیا۔ رندا کے معائنے کے بعد اس کا آپریشن ہوا اور اس کی آنکھ سے موتیا نکال دیا گیا۔ آپریشن کے دو گھنٹے بعد ڈاکٹروں نے رندا کی آنکھوں سے پٹی اتاری۔ اس نے آنکھیں کھول کر اپنے پہلو میں موجود ایک خاتون سے پوچھا کہ وہ کون ہے تو خاتون نے جواب دیا کہ "میں تمہاری ماں ہوں"۔

یہ سن کر رندا خوشی کے مارے اپنی ماں کی گود میں گر گئی۔ اس منظر نے وہاں موجود تمام افراد کی آنکھوں کو اشک بار کر دیا۔

آپریشن کرنے والے سرجن ڈاکٹر صالح حسن زين نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ رندا پیدائشی طور پر آنکھوں میں موتیا ہونے کے نتیجے میں بینائی سے محروم تھی۔ مالی حالات کے سبب رندا کے گھر والے اپنی بیٹی کا بر وقت علاج نہیں کرا سکے اور بڑے ہونے پر رندا کا کیس بگڑ گیا۔ یہاں تک کہ اس کا علاج اور آپریشن محال ہو گیا۔

ڈاکٹر صالح نے اس کار خیر میں اپنا کردار ادا کرنے والے تمام افراد اور اداروں کا شکریہ ادا کیا۔ ان میں کنگ سلمان فنڈ ، کویت کی ریاست اور بین الاقوامی ادارے ، تنظیمیں اور انجمنیں شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں