بوسنیا میں جنگی جرائم کے الزام میں سابق جنرل کو 27 سال بعد جیل بھیج دیا گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

بوسنیا میں مسلم افواج کے سابق جنرل چکیب مھمولگن کو جمعرات 28 اپریل کو 1990 کی دہائی میں جنگ کے دوران غیر ملکی عسکریت پسندوں کےخلاف جنگی جرائم کے جرم میں آٹھ سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

69 سالہ مھمولگن کے خلاف بوسنیا کے شمال مشرقی علاقے فوزوکا وزافیدفشٹی میں 50 سے زائد سرب جنگی قیدیوں کو پھانسی دینے کے جرم میں شمولیت کا مقدمہ چلایا گیا تھا۔

اسے ابتدائی طور پر جنوری 2021 میں 10 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی اور جمعرات کی سزا اپیل سے مشروط نہیں ہے۔

اس وقت مھمولگن بوسنیا کی سرکاری فوج میں تھرڈ ڈویژن کے کمانڈر تھے، جس میں زیادہ تر بوسنیائی مسلمان شامل تھے۔

ان جرائم کے ذمہ دار اور اس کے ڈویژن سے تعلق رکھنے والے "مجاہد" یونٹ میں سینکڑوں جنگجو شامل تھے۔ خاص طور پر وہ غیر ملکی جو افریقی ممالک، مشرق وسطیٰ اور بعض مغربی ممالک سے بوسنیائی مسلمانوں کی افواج میں شامل ہونے کے لیے آئے تھے۔

سابق بوسنیائی جنرل کو سرائیوو میں ایک اپیل کورٹ نے اسے زخمی، بیمار اور جنگی قیدیوں کے خلاف جنگی جرائم کے ارتکاب کا مجرم قرار دیا تھا۔ عدالت کی طرف سے جاری فیصلے میں کہا گیا تھا کہ سابق جنرل جرائم کو روکنے میں "ناکام" رہے۔اس کے علاوہ انہیں علم تھا کہ اس یونٹ کے ارکان جرائم کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔

استغاثہ نے کہا کہ یہ زیادتیاں جولائی اور اکتوبر 1995 کے درمیان بوسنیائی افواج کی طرف سے 11 ستمبر 1995 کو 63 بوسنیائی سرب فوجیوں اور تین شہریوں کی گرفتاری کے بعد شروع کیے گئے دو حملوں کے درمیان ہوئیں۔

"مجاہد" یونٹ میں شامل ہونے والے زیادہ تر اسلام پسندوں نے جنگ اور امریکا کے دباؤ کے بعد ملک چھوڑ دیا۔ بعد ازاں سنہ 1995 میں امریکا نے مذاکرات کی میزبانی کی جس کے نتیجے میں "ڈایٹن امن معاہدہ" ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں