ترک صدرایردوآن کی2017ء کے بعد پہلے دورے پر سعودی عرب آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن 2017ء کے بعد اپنے پہلے دورے پر جمعرات کو سعودی عرب پہنچے ہیں۔

ترک ایوان صدر نے اس سے قبل ایک بیان میں بتایا کہ یہ دورہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی دعوت پر کیا جارہا ہے۔

بیان کے مطابق ترک صدر اور سعودی قیادت کے درمیان ملاقات میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا اور دوطرفہ تعاون بڑھانے کے مقصد سے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔دوطرفہ تعلقات کے علاوہ اہم علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی بات چیت کی جائے گی۔

یادرہے کہ 2018ء میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھےلیکن حالیہ مہینوں میں انقرہ نے الریاض کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔

صدر ایردوآن سعودی عرب کے علاوہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بھی کوشاں ہیں کیونکہ انھیں ترک کرنسی کی گرتی ہوئی قدر اور افراط زر کی بڑھتی ہوئی شرح سے دوچارمعیشت کی وجہ سے اندرون ملک مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے۔

’نیا دور‘

طیب ایردوآن نے سعودی عرب روانہ ہونے سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا:’’میرا دورہ دونوں برادر ممالک کے درمیان تعاون کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کی ہماری مشترکہ خواہش کی عکاسی کرتا ہے۔ ہم سیاست، دفاع، معیشت اور ثقافت سمیت ہر لحاظ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں اضافے کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے کی کوششیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ سعودی عرب تجارت اور سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ ہمارے ٹھیکے داروں کے ذریعے مکمل کیے جانے والے بڑے منصوبوں کے حوالے سے ترکی کے لیے ایک خاص مقام رکھتا ہے۔سعودی عرب میں ہمارے ٹھیکے داروں نے جو منصوبے شروع کیے ہیں،ان کی مجموعی مالیت 24 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ ہماری معیشت کی تکمیلی نوعیت ایسا بنیادی عنصر ہے جو سعودی سرمایہ کاروں کو ترکی میں متحرک ماحول کی طرف راغب کرتا ہے۔

انھوں نے کہا:’’مجھے یقین ہے کہ صحت کی دیکھ بھال، توانائی، تحفظ خوراک ، زرعی ٹیکنالوجیز، دفاعی صنعت اور مالیات جیسے شعبوں میں سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعاون کو فروغ دینا ہمارے مشترکہ مفاد میں ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ ہمارے پاس خاص طور پر قابل تجدید اور سبز توانائی میں نمایاں صلاحیت ہے۔امید ہے کہ ہم ان امور پر بات چیت کریں گے اور ان میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کا مکمل جائزہ لیں گے‘‘۔

صدر ایردوآن نے یہ بھی کہا کہ ’’وہ الریاض اور انقرہ کے درمیان تعلقات کے تمام پہلوؤں پرغورکریں گے،علاقائی اور بین الاقوامی پیش رفت بھی ہمارے ایجنڈے میں شامل ہوگی۔ ہم اسے ہر موقع پر بیان کرتے ہیں کہ ہمارے لیے خلیج میں ہمارے بھائیوں اور بہنوں کا استحکام اور سلامتی بھی ہماری اپنی سلامتی اوراستحکام کی طرح اہمیت کی حامل ہے۔بڑھتے ہوئے جدید خطرات کے موجودہ دور میں ہمارے پورے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے بات چیت اور تعاون ناگزیرہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں