شامی صدر کی خاندانی دولت ایک سے دو ارب ڈالر کے درمیان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کی رپورٹوں میں یہ باور کرایا جا چکا ہے کہ شام میں 90% لوگ غربت میں زندگی گزار رہے ہیں۔ ان میں 60% لوگ غذائی امن کے فقدان سے دوچار ہیں۔ ان کے علاوہ 78.8 لاکھ افراد کے لیے ڈاکٹر یا عالمی سطح پر قابل قبول معیار کے مساوی طبی مراکز نہیں ہیں۔

دوسری جانب امریکی وزارت خارجہ نے جمعرات کے روز تصدیق کی ہے کہ شامی صدر بشار الاسد اور اس کے گھرانے کی دولت کی خالص مالیت ایک سے دو ارب ڈالر کے درمیان ہے۔

کانگریس کی جانب سے مطالبے پر تیار کی گئی ایک رپورٹ میں وزارت خارجہ نے بتایا ہے کہ یہ رپورٹ اندازے پر مبنی ہے۔ اس لیے کہ وزارت کے نزدیک بشار کے خاندان کے پاس ایسے اثاثے بھی ہیں جن کو فرضی ناموں یا پھر جائیداد کے مبہم معاہدوں کے ذریعے ملکیت میں رکھا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذکورہ دولت کے مالکان میں شامی صدر ، اس کی بیوی ، اس کا بھائی ، اس کی بہن ، اس کے کزن ، اس کے خالہ زاد بھائی اور اس کے ماموں زاد بھائی شامل ہیں۔ ان میں زیادہ تر افراد پر امریکی پابندیاں عائد ہیں۔

بشار کے تین بیٹوں کی خالص دولت کے بارے میں معلومات نہیں پائی جاتی ہیں۔ ان میں سب سے چھوٹے بیٹے کی عمر 17 برس ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے رواں سال جونری میں شام کے حوالے سے سلامتی کونسل کے سامنے تشویش ناک اعداد و شمار پیش کیے تھے۔ ان کے مطابق 2.2 کروڑ کی آبادی میں سے تقریبا 90 لاکھ شامی ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں جن پر حکومت کا کنٹرول نہیں ہے۔ ان میں 56 لاکھ افراد کو انسانی امداد کی ضرورت ہے۔

گوٹیرس نے بتایا تھا کہ دستیاب اعداد و شمار اور رپورٹوں کے مطابق جنگ کے دوران میں شام کی معیشت کو پہنچنے والا خسارہ 442 ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے۔ اس خسارے میں بڑا حصہ مجموعی مقامی پیداوار کا ہے۔ اس وقت 90% شامی خاندان ملک میں موجود پردیسیوں کی مالی رقوم پر انحصار کر رہے ہیں۔

ملک کو کئی برسوں سے متعدد بحرانوں کا سامنا ہے۔ ان میں ایندھن ، توانائی اور روٹی کے بحران کے علاوہ مقامی کرنسی لیرہ کی قدر میں بے پناہ کمی واقع ہونا شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں