مصری صحافی کی گلے میں پھندا ڈال کرخود کشی، سرتن سے الگ ہوکر دور جا گرا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصرمیں الاھرام فاؤنڈیشن کے لیے کام کرنے والے ایک مقامی صحافی نے جمعرات کی صبح اپنے ادارے کے اندر پھانسی لے کراپنی زندگی کا خاتمہ کر دیا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کو ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ الاھرام فاؤنڈیشن کے لیے کام کرنے والے ایک صحافی عماد الفقی نے خود کو پھانسی لگا کر خودکشی کر لی اور اس کا سر تن سے جدا ہوگیا۔ جسم سے الگ ہونے والا اس کا سرعمارت کی چوتھی منزل پر واقع اس کے دفتر کی بالکونی سےنیچے جا گرا۔

تحقیقات کے مطابق یہ واقعہ جمعرات کی صبح 4:50 بجے پیش آیا، جب عمارت سے ملحق چرچ میں ایک ملازم نے صحافی کا سر چرچ کی عمارت کے قریب پریس تنظیم کی دو عمارتوں کو الگ کرنے والی بیریئر میں پڑا ہوا پایا۔

معلوم ہوا کہ صحافی نے اپنے دفتر کی کھڑکی میں رسی سے لٹک کر خود کشی کر لی جس کے نتیجے میں جسم بھاری ہونے کے باعث اس کا سر تن سے جدا ہو گیا اور سر ادارے کی دو عمارتوں کے درمیان تنگ گلی میں جا گرا۔

دو شادیاں

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ خود کشی کرنےوالے صحافی کی عمر پچاس سال تھی۔ وہ معروف ادارے کے نیوز ڈیپارٹمنٹ میں کام کرتا تھا اور وہ اس شعبے کی صدارت سنبھالنے کے لیے امیدوار تھا۔ اسے اپنے کام کی جگہ یا اپنے ساتھیوں کے ساتھ کوئی پریشانی نہیں ہے۔

پبلک پراسیکیوشن نے تفتیش شروع کردی ہے۔ کچھ عینی شاہدین اور صحافی کی دو بیویوں کو طلب کرکے ان کے بیانات لیے گئے ہیں اور مانیٹرنگ کیمروں کے ریکارڈ سے بھی مدد لی جا رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں