روس اور یوکرین

روسی وزیرخارجہ کا یوکرین کی امداد سے متعلق بیان جھوٹ کا پلندہ ہے: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

امریکی محکمہ خارجہ کے علاقائی ترجمان سیموئیل واربرگ نے کہا ہے کہ کہ روسی صدر ولادیمیر پوتین یوکرین میں فوجی آپریشن روکنے کی اہلیت اور صلاحیت رکھتے ہیں۔

واربرگ نے العربیہ سے خصوصی گفتگو میں کہا کہ کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے ملک پر حملہ کرے اور طاقت کے ذریعے اپنی سرحدیں تبدیل کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "ہم نیٹو کے تمام ممالک کے دفاع کے لیے تیار ہیں۔ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے جس نے روس پر حملہ نہیں کیا اور نہ ہی اس میں مداخلت کی ہے۔"

انہوں نے نشاندہی کی کہ "پابندیوں کے اثرات وقت کے ساتھ ساتھ روسی معیشت پر مزید خراب ہوں گے۔"

لاوروف کے الزامات مسترد

واربرگ نے کہا کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے الفاظ تخیل اور جھوٹ کا پلندہ ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ روس نے دنیا میں سب سے زیادہ حیاتیاتی ہتھیار استعمال کیے ہیں۔

ہم روس کے ساتھ جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے پر متفق ہیں۔

اس پر انہوں نے مزید کہا کہ ہم لاوروف کے ان الزامات کو مسترد کرتے ہیں کہ ہم امداد کو دباؤ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں۔

"ناقابل قبول"

دوسری جانب یورپی یونین اور شمالی افریقہ کے سرکاری ترجمان لوئس میگوئل بیونو نے یوکرین میں روس کے داخلے کے بارے میں لاوروف کے جواز کو ناقابل قبول قرار دیا۔

العربیہ کو دیے گئے خصوصی بیان میں انہوں نے کہا کہ نیٹو ممالک کا ایک دفاعی ہدف ہے جو مشرقی یورپ کے ممالک کا تحفظ ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اب اگر جوہری جنگ ہوتی ہے تو یہ کرہ ارض کی آخری جنگ ہو گی۔"

جنگ کا مقصد یوکرین کی تباہی

درایں اثنا یوکرین کی وزارت ثقافت اور اطلاعات کی مشیر ویلنٹینا اکسینوا نے کہا کہ روسی آپریشن کا اصل ہدف یوکرین کی تباہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ روس کا مقصد یوکرین کے تمام علاقے پرقبضہ کرنا ہے۔

انہوں نے العربیہ کو خصوصی بیان میں مزید کہا کہ "روس یوکرین میں جنگ ختم کر سکتا ہے، لیکن وہ ایسا نہیں چاہتا۔"

انہوں نےدعویٰ کیا کہ پہلے ہی بڑی مقدار میں ہتھیار یوکرین میں داخل ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں