روس کی جانب سے یوکرین میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا بھیانک انجام ہو گا: لندن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

یوکرین میں روس کے فوجی آپریشن کا آج 66 واں روز ہے۔ اس موقع پر برطانوی وزارت خارجہ میں یورپ اور شمالی امریکا کے امور کے وزیر جیمز کلیفرلی نے آج ہفتے کے روز کہا ہے کہ ان کا ملک روسی افواج کی جانب سے یوکرین میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے امکان کا قریب سے جائزہ لے رہا ہے۔ انہوں نے باور کرایا ہے کہ اس نوعیت کا کوئی بھی تصرف "بھیانک نتائج" کا حامل ہو گا۔

برطانیہ اور امریکا ماضی میں بارہا روسی افواج کو اس نوعیت کے آپشن کی جانب جانے سے خبردار کر چکے ہیں۔ بالخصوص ماسکو کی جانب سے (بنا ثبوت پیش کیے) امریکی انتظامیہ پر یہ الزام عائد کرنے کے بعد کہ واشنگٹن یوکرین کی اراضی پر حیاتیاتی ہتھیاروں کے پروگرام کو سپورٹ کر رہا ہے۔

اسی طرح روسی وزارت دفاع بھی کئی مرتبہ "قوم پرست یوکرینیوں" پر الزام عائد کر چکا ہے کہ وہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے ذریعے اشتعال انگیزی کی تیاری کر رہا ہے۔

یاد رہے کہ روس نے رواں سال 24 فروری کو یوکرین میں فوجی آپریشن شروع کیا تھا۔

روس یوکرین کی سرزمین پر ایٹمی ہتھیاروں کے کسی بھی استعمال یا انسانی حقوق کی پامالی کے ارتکاب کی تردید کر چکا ہے۔ ماسکو کے نزدیک ان الزام تراشیوں کا مقصد روسی افواج کی ساکھ خراب کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں