کریم سعودی عرب میں نیا ڈیجیٹل والٹ شروع کرے گی: سی ای او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

متحدہ عرب امارات کی ایپ کے ذریعے سواری خدمات مہیا کرنے والی کمپنی کریم اپنے تازہ ترین فنٹیک وینچر کے تحت ڈیجیٹل بٹوے سے رقم کی ادائی کو سعودی عرب میں بھی وسعت دے گی۔

یہ بات کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر(سی ای او)مدثر شیخہ نے العربیہ کو ایک انٹرویو میں بتائی ہے۔ انھوں نے کہا ’پے والٹ‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’’ہم متحدہ عرب امارات میں جو کچھ کر رہے ہیں،ان میں سے بہت سی چیزیں سعودی مارکیٹ کی حقیقت کے مطابق ڈھل جائیں گی‘‘۔

سی ای او کے مطابق کمپنی نے گذشتہ پانچ سال میں سواری اٹھانے اورمال برداری کی خدمات کے ذریعے 5 ارب ڈالر سے زیادہ کی رقوم کا لین دین کیا ہے۔

انھوں نے صارفین کی جانب سے رقوم ادائی کے ذریعے خطے میں 28 کھرب ڈالر کے مواقع کا تخمینہ لگایا ہے۔ڈیجیٹل ادائی کا نظام رقم ذخیرہ کرنے کے لیے ایک ثالثی پلیٹ فارم مہیاکرتا ہے جو آئی بی اے این معلومات استعمال کرنے یا مستفید ہونے والوں کوکسی پریشانی کے بغیر دو صارفین یا تاجر کے درمیان منتقل کیا جاسکتا ہے۔

شیخہ نے کہا کہ خلیجی خطے میں بینکوں کی رسائی کی شرح زیادہ ہونے کی وجہ سے رقوم کی منتقلی اور ادائی کو آسان بنانے کی ضرورت ہے۔انھوں نے بتایا کہ پاکستان، مصر اور مراکش جیسے ممالک بنکوں کے ذریعے لین دین کی شرح کم ہے، وہاں سمارٹ فونز کے ذریعے لین دین کی شرح زیادہ ہے جس سے فائدہ اٹھایاجا سکتا ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ سام سنگ پے اور ایپل پے کریم کے بڑے حریف ہوں گے، جس کی وجہ مارکیٹ میں ان کی طویل موجودگی اورعالمی سطح پر ان کے صارفین کی بڑی تعداد میں موجودگی ہے۔

ایک نئی فنٹیک پیش کش کے ساتھ مقامی بینکوں سے کیا مسابقت ہوسکتی ہے،اس کے حوالے سے شیخہ کہتے ہیں کہ ہم بینکوں کے ساتھ مقابلہ نہیں سمجھتے، درحقیقت ہم بینکوں کے ساتھ شراکت داری کے طور پر دیکھتے ہیں۔

اس کا مقصد مارکیٹ میں نقد رقم کی موجودگی کو کم کرنا ہے اور تبادلے کے پرانے ذرائع کو ’’کم مؤثر‘‘ قراردینا ہے۔

شیخہ کا کہنا ہے کہ وہ اس نئی ٹیکنالوجی کے اندرون ملک استعمال کے علاوہ 2022 کے آخر تک اس کی سرحد پار منتقلی شروع کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ بہت سے کپتان (خدمات مہیا کرنے والے شراکت دار) ہمارے کچھ ممالک میں، خطے کے دیگر حصوں سے آتے ہیں۔ہم ان کے لیے رقم کی منتقلی بہت آسان بنانا چاہتے ہیں جو ہم نے ان کے بٹوے (والٹ) میں ڈالی تھی اور یہ چاہتے ہیں کہ ان کی آمدن ان کے اہل خانہ کو آسان طریقے اور کم لاگت انداز میں ان کے آبائی ممالک میں مل جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں