.

ترکی سعودی عرب اوریواے ای کے ساتھ ’پیش رفت‘کے بعدمصر سے تعلقات معمول پرلارہا ہے:اوغلو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیرخارجہ مولودشاوش اوغلو نے کہا ہے کہ ترکی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ ’’پیش رفت‘‘ کے بعد مصر کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو معمول پر لانے کے لیے کام کررہا ہے۔

انھوں نے اتوار کو ترک اخبار صباح کو ایک انٹرویو میں بتایا کہ ’’تعلقات کو معمول پر لانے کا یہ عمل مصر کے ساتھ پہلے شروع ہوا تھا لیکن یہ قدرے سست رفتاری سے آگے بڑھا ہے لیکن جب اس کا آغاز متحدہ عرب امارات سے ہواتو یہ بہت تیزی سے جاری رہا۔ اسی طرح بحرین کے ساتھ بھی۔ ایک عمل سعودی عرب سے شروع ہوا تھا، ہم نے دوطرفہ بات چیت کی۔ بالآخر یہ ہمارے تعلقات کو معمول پر لانے کی ہماری حکمت عملی کا حصہ ہے‘‘۔

انھوں نے کہا کہ مصر کے ساتھ بات چیت کا اگلا دورنائب وزیر یا وزیر کی سطح پر ہوسکتا ہے۔ہم اپنے رابطوں میں اضافہ کریں گے۔ہم بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر ایک دوسرے کے خلاف نہ ہونے کے اصول کا اطلاق کرتے ہیں۔

علاقائی تعلقات کا 'نیا دور'

ترک وزیر خارجہ کا یہ تبصرہ صدر رجب طیب ایردوآن کے 2017 کے بعد اسی ہفتے سعودی عرب کے دورے کے دوایک روز بعد سامنے آیا ہے۔صدر ایردوآن نے سعودی عرب کے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ملاقات کی اور ان سے دوطرفہ تعلقات کے مختلف پہلووں پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

واضح رہے کہ 2018ء میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے لیکن اب دونوں ممالک میں برف پگھلی ہے اور وہ دوطرفہ روابط بڑھا رہے ہیں۔

ترک صدر نے دورے پر روانہ ہونے سے قبل اس امید کا اظہار کیا تھا کہ اس سے سیاست، دفاع، معیشت اور ثقافت سمیت تمام شعبوں میں ’’تعاون کے نئے دور‘‘کا آغاز ہوگا۔

صدر ایردوآن سعودی عرب کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔انھیں ترک کرنسی میں ریکارڈ گراوٹ اورافراطِ زرکی بڑھتی ہوئی شرح سے دوچار معیشت کی وجہ سے اندرون ملک مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے۔

مصرمیں فوج کے 2013 میں ترک صدر رجب طیب اردگان کے اتحادی الاخوان المسلمون کے صدر محمد مرسی کو معزول کرنے کے اقدام کے بعد دونوں ملکوں میں تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے۔

دونوں ممالک آبی حدود کے دائرہ اختیار اور آف شور وسائل کے علاوہ لیبیا میں بھی ایک دوسرے کے مدمقابل رہے ہیں اور وہاں جاری خانہ جنگی میں دونوں ممالک نے متحارب مخالف فریقوں کی حمایت کی ہے۔

تاہم ترکی اور مصر نے برسوں تک ایک دوسرے کے خلاف الزامات کے تبادلے اورسخت بیان بازی گذشتہ سال دوبارہ سلسلہ جنبانی شروع کیا تھا اور اب تک دونوں ملکوں کے حکام میں مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں اور دونوں میں جاری سردمہری میں بھی کمی آچکی ہے۔

جہاں تک متحدہ عرب امارات کا تعلق ہے،ترک صدر نے 2013 کے بعد اس سال فروری میں پہلی مرتبہ اس خلیجی ملک کا دورہ کیا تھا۔اس دورے میں دونوں ممالک نے 5 ارب ڈالر مالیت کے مختلف معاہدوں پر دست خط کیے تھےجس سے ترکی کے زرمبادلہ کے ذخائرمیں بہتری آئے گی اور اس سے اس کو معیشت کو سنبھالا دینے میں بھی مدد ملے گی۔طیب ایردوآن اور ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید نے دفاع اور تجارت سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ سے متعلق 13 معاہدوں پردست خط کیے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں