ترک صدرایردوآن کا اپنے دورۂ سعودی عرب پر اطمینان کا اظہار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترک صدررجب طیب ایردوآن نے اپنے سعودی عرب کے دورے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے،اس کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق صدر ایردوآن نے کہا کہ انھوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے متعدد اموراوران اقدامات پر تبادلہ خیال کیا ہے جو دوطرفہ تعلقات کو آگے بڑھانے کے لیے کیے جاسکتے ہیں۔

انھوں نے مذاکرات میں’’ترکی اور سعودی عرب کے درمیان عظیم اقتصادی تعاون‘‘ کے ممکنہ مواقع پر روشنی ڈالی اورعالمی ایکسپو 2030 کی میزبانی کے لیے سعودی عرب کی بولی کی حمایت کا اظہار کیا۔

جدہ روانگی سے قبل صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے صدر ایردوآن نے کہا کہ ان کا دورہ تعلقات کو بہتربنانے اور سیاسی، فوجی اور ثقافتی تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے’’ہماری مشترکہ منشاکا مظہر‘‘ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ صحت، توانائی، خوراک کی سلامتی، دفاعی صنعت اور مالیات سمیت دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون کا فروغ ہمارے لیے باہمی طور پر فائدہ مند ثابت ہوگا۔انھوں نے کہا کہ مشترکہ کوششوں سے مجھے یقین ہے کہ ہم اپنے تعلقات کو اس سے بھی آگے لے جائیں گے جہاں وہ ماضی میں تھے۔

ترک صدرنے مسلمانوں کے مقدس ماہِ رمضان کے اختتام کواس دورے کے لیے مناسب وقت قراردیا اورکہا کہ یہ ’’برادرانہ تعلقات کے احیاء اور مضبوطی‘‘کا مہینہ ہے۔

ترک ایوان صدر نے ایک بیان میں بتایا کہ طیب ایردوآن نے جمعرات کو بحیرہ احمر کے کنارے واقع شہرجدہ میں السلام محل میں ایک سرکاری تقریب کے بعد شاہ سلمان بن عبدالعزیز سے ملاقات کی تھی۔

ان کی سعودی قیادت کے ساتھ گذشتہ چند برس کے بعد یہ پہلی ملاقات تھی۔واضح رہے کہ 2018ء میں استنبول میں سعودی قونصل خانے میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سعودی عرب اور ترکی کے درمیان تعلقات کشیدہ ہوگئے تھے لیکن اب دونوں ممالک میں برف پگھلی ہے اور وہ دوطرفہ روابط کو بڑھا رہے ہیں۔

ترک صدر نے اس دورے پر روانہ ہونے سے قبل اس امید کا اظہار کیا تھا کہ اس سے سیاست، دفاع، معیشت اور ثقافت سمیت تمام شعبوں میں ’’تعاون کے نئے دور‘‘کا آغاز ہوگا۔وہ سعودی عرب کے علاوہ خطے کے دوسرے ممالک کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنانے کے لیے بھی کام کر رہے ہیں۔انھیں ترک کرنسی میں ریکارڈ گراوٹ اورافراطِ زرکی بڑھتی ہوئی شرح سے دوچار معیشت کی وجہ سے اندرون ملک مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں