روس اور یوکرین

روسی گیس کی بندش کے خطرے سے نمٹنے کے لئے یورپی ممالک کا اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین میں شامل ممالک کے توانائی کے امور کے ذمہ دار اداروں نے پیر کے روز ہنگامی مذاکرات شروع کئے ہیں تاکہ روس کی جانب سے گیس سپلائی کی ممکنہ بندش پر کوئی لائحہ عمل طے کیا جا سکے۔

روس نے یورپی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس کی گیس کی ادائیگی روسی کرنسی میں کریں اور ایسا نہ کرنے والوں کو گیس کی سپلائی بند کر دیا جائے گی۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے کے دوران روس نے بلغاریہ اور پولینڈ کی جانب سے روبلز میں ادائیگی کرنے سے انکار پر دونوں ممالک کو گیس کی فراہمی معطل کر دی ہے۔

ان دونوں ممالک نے روسی گیس پر انحصار سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لئے پہلے سے ہی تیاریاں کر رکھی تھی اور ان کے مطابق وہ روس کی جانب سے تعطل کے ساتھ گزارا کر سکتے ہیں۔مگر اس سے یورپی ممالک میں خوف بڑھ گیا ہے کہ روسی پابندیوں کا اگلا نشانہ باقی ممالک بالخصوص جرمنی ہوگا۔

ماسکو حکومت کے مطابق روس سے گیس خریدنے والے ممالک یورو یا ڈالرز میں گیس کی ادائیگی روس کے نجی بینک میں کریں گے جو ان ادائیگیوں کو روسی کرنسی روبلز میں منتقل کرے گا۔

یورپی کمیشن نے ممالک کو خبردار کیا ہے کہ روس کی اس سکیم کو اپنانے سے روس پر عائد یورپی پابندیوں کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔

یورپی ممالک کی جانب سے روبلز میں ادائیگیوں کی مدد سے روس کو عالمی پابندیوں سے پیش آنے والے مشکلات میں کمی لانے میں مدد ملے گی۔

ایک یورپی ادارے کے مطابق یورپی ممالک نے24 فروری میں روس کی جانب سے یوکرین پر حملے کے بعد سے اب تک 45 ارب یورو کی ادائیگی کی ہے۔روس اپنی برآمدات کے ذریعے سے یورپ کو گیس کی 40 فی صد اور تیل کی 26 فی صد ضرورت پوری کرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں