پیرس میں سیاحوں کی خاطر اسٹور بنانے کے لیے پرانے درختوں کی کٹائی پر تنازع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فرانس کی ممتاز شخصیات نے دارالحکومت پیرس میں ایفل ٹاور کے قریب 20 درختوں جن میں بعض پرانے درخت بھی شامل ہیں کی کٹائی کے عمل کی شدید مذمت کی ہے۔ ان درختوں کی مبینہ کٹائی کا مقصد دارالحکومت میں آنے والے سیاحوں کے لیے ایسی جگہیں بنانا ہے جہاں وہ اپنا سامان رکھ سکیں۔ دوسری طرف پیرس میونسپلٹی کی طرف سے اسے ایک شرمناک اقدام قرار دیا ہے۔

اس منصوبے کے مخالفین کا غصہ ٹھنڈا کرنے کے لیے پیرس سوشلسٹ میونسپلٹی کے پہلے نائب صدر عمانویل گریگوار نے کہا کہ صدیوں پرانا درخت کوئی نہیں کاٹے گا۔

گریگوار حلقوں نے "اے ایف پی" کو بتایا کہ اس پروگرم کے تحت ایک سو سال پرانے دو درختوں پر مشتمل ہے۔ میونسپلٹی ان کے لیے متبادل حل تلاش کرے گی۔

جہاں تک دوسرے درختوں کی بات ہے تو مقصد یہ ہے کہ کٹے ہوئے درختوں کی تعداد کو کم سے کم کیا جائے۔ ایک ذریعے کے مطابق میونسپلٹی 42 درختوں کی تعداد کم کرکے بائیس کردی گئی ہے۔

تاہم مخالفین کو پُرسکون کرنے کے لئے یہ کافی نہیں تھا۔ انہوں نے ناگی کے مشہور ریڈیو اور ٹیلی ویژن پروگراموں اور لارنس پیرسو سنڈیکیٹ کے سابق صدر کے ذریعہ روشن "چینگ" ویب سائٹ پر ایک پٹیشن تیار کی ہے جس پر دسیوں ہزاروں دستخط جمع کیے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں