الشباب کا صومالیہ میں افریقی یونین کے فوجی کیمپ پر حملہ، تین افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

صومالیہ میں الشباب گروپ نے ملک کے وسطی علاقے شبیلےمیں افریقی یونین کے مشن کے ایک فوجی کیمپ پر حملہ کیا ہے اور فائرنگ کے تبادلے کے نتیجے میں تین شہری ہلاک ہو گئے ہیں۔

جائے وقوعہ کے قریب واقع ایک گاؤں کے مکین نے بعد میں بتایا کہ اس نے دو ہیلی کاپٹروں کو اڑتے ہوئے دیکھا اور ان سے گولیاں چلائی جارہی تھیں۔اس کے علاوہ کیمپ سے دھماکوں کی آوازیں بھی سنائی دی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ہم صبح سویرے دھماکوں کی آوازوں سے بیدارہوئے تھے۔ دھماکے افریقی یونین کے ایک فوجی اڈے پر ہوئے تھے۔ مقامی بزرگ محمد نور نے دارالحکومت مقدیشو کے شمال میں قریباً 130 کلومیٹر (80 میل) کے فاصلے پرواقع البارف سے فون کے ذریعے برطانوی خبررساں ایجنسی رائٹرز کو بتایا کہ فوجیوں اور جنگجوؤں میں فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا ہے۔

الشباب نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔یہ تنظیم صومالیہ میں گذشتہ کئی سال سے مرکزی حکومت کو گرانے اور اسلام کے شرعی قانون کی سخت تشریح کی بنیاد پر اپنی حکمرانی قائم کرنے کے لیے لڑرہی ہے۔

الشباب نے ایک بیان میں کہا کہ مجاہدین نے وسطی علاقے شبیلے میں واقع البراف میں اے ٹی ایم آئی ایس (افریقی یونین مشن) کے فوجی اڈے پرمنگل کو علی الصباح چھاپہ مارکارروائی کی ہے۔مجاہدین شدید فائرنگ کے بعداس اڈے پرقبضے میں کامیاب ہوگئے اور اب پورا فوجی اڈا ان کے مکمل کنٹرول میں ہے۔

علاقے کے مکین ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ اے ٹی ایم آئی ایس فورسزالشباب کے جنگجوؤں کا پیچھا کرتے ہوئے نزدیک واقع جنگلوں میں موجود ہیں۔ اب تک لڑائی میں تین شہری ہلاک اور پانچ زخمی ہوئے ہیں۔

الشباب کے جنگجو مرکزی حکومت کے خلاف جنگ کے حصے کے طور پرمقدیشو اوردیگر جگہوں پراکثر بم دھماکے اور بندوقوں سے حملے کرتے رہتے ہیں۔وہ افریقی یونین کے امن مشن میں شامل فوجیوں پر بھی حملے کرتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں