جعلی اسکینڈل میں استاد پر بیٹی کو ہراسگی الزام لگانے والی خاتون گرفتار

الزام ثابت نہ ہونے پراستاد رہا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصرمیں ایک خاتون کی جانب سے گھرمیں اس کی بچی کو پڑھانے والے استاد پربچی کو ہراساں کرنے کا جھوٹا الزام لگانے پرخاتون کو گرفتار کرلیا گیا ہے جب کہ الزام ثابت نہ ہونے پر استاد کو رہا کردیا گیا ہے۔

پولیس کی جانب سے الاھرام گارڈنز کی ایک خاتون کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ خاتون پر الزام ہے کہ اس نے فیس بک پرایک جعلی ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی بچی کو اس کے سائنس ٹیچر نے ہراساں کیا ہے۔

پولیس نے استاد اور خاتون کے درمیان بدکلامی کی رپورٹ درج کی ہے۔ پولیس کے مطابق استاد پر لڑکی کو ہراساں کرنے کا الزام ثابت نہیں ہوا ہے۔

جیزا انویسٹی گیشن کے جنرل ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر میجر جنرل مدحت فارس کی زیر نگرانی ہونے والی تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ الاھرام گارڈنز کی خاتون "فیس بک" پلیٹ فارم پر ایک ویڈیو میں سامنے آئیں۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ان کی بیٹی کو اس نے استاد نے "ہراساں" کیا تھا۔ یہ کہ اس نے لڑکی کے جسم کو بار بار چھوا اور اسے اس واقعہ کا اس وقت پتہ چلا جب اس نے لڑکی کی چیخیں سنیں۔

محکمہ ھرم پولیس کے سپرنٹنڈنٹ بریگیڈیئر جنرل احمد دسوقی نے خاتون کو پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کر دیا ہے۔ اس کے خلاف جھوٹی خبریں پھیلانے اور رائے عامہ کوگمراہ کرنے کے الزام میں تحقیقات کا سامنا ہے۔

خاتون نے فیس بک کی "براہ راست نشریات" سروس کے ذریعے دعویٰ کیا کہ اس کی 15 سالہ بیٹی گھر میں پڑھانے والے ایک سائنس ٹیچرنے اس کے گھر میں ہراساں کیا۔ اس نے کہا کہ استاد نے لڑکی کو ہراساں کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے چیخ پکار شروع کردی اور مدد کے لیے پکارا۔

ویڈیو میں خاتون نے دعویٰ کہا کہ اس نے استاد کی بیوی سے بھی فون پر بات کی اور اسے واقعہ بیان کیا۔

ایمرجنسی پولیس کو اطلاع دینے کے چند ہی منٹوں میں پولیس اسٹیشن کی ایک فورس میجر احمد عصام کی نگرانی میں آئی اور ملزم کو تفتیش کے لیے لے گئی اور پڑوسیوں سے عینی شاہدین کے بیانات سنے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا کہ خاتون کا بیٹی کو ہراساں کرنے کا الزام بے بنیاد ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں