اسرائیل کاروس کے ساتھ کشیدگی کے بعد یوکرین کی فوجی امداد بڑھانے پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل امریکی صدر جوبائیڈن کی انتظامیہ کی درخواست پریوکرین کی فوجی امداد بڑھانے پر غور کررہا ہے۔

امریکی اور اسرائیلی حکام نے بدھ کے روزخبری ویب گاہ ایکسیوس کو بتایا کہ اسرائیل نے وزارت دفاع میں سیاسی فوجی بیورو کے سربراہ کو امریکا کی قیادت میں جرمنی کے رامسٹین ایئربیس پرہونے والے اجلاس میں شرکت کے لیے بھیجا ہے۔اس میں یوکرین کو ہتھیار بھیجنے کے معاملے پرغورکیا جائے گا۔

ایکسیوس کی رپورٹ میں میں بتایا گیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیرجیک سلیوان نے گذشتہ ہفتے اپنے اسرائیلی ہم منصب عیال ہولاٹا سے بھی ملاقات کی تھی اور ان کے ذریعے واشنگٹن کی درخواست تل ابیب کو پہنچائی تھی۔

ایک سینیراسرائیلی عہدہ دار نے کہا کہ وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی حکومت یوکرین کو اپنی فوجی امداد بڑھانے پر غورکررہی ہے اور جنگ جاری رہنے کی صورت میں مزید فوجی امداد بھیجے جانے کا امکان ہے۔ لیکن اس عہدہ دار نے زوردے کر کہا کہ اسرائیل یوکرین کوصرف غیرمہلک فوجی سازوسامان ہی مہیّا کرے گا۔

روس نے 24 فروری کو یوکرین پرحملہ کیا تھا اوریہ دعویٰ کیا تھا کہ اس کامقصد اپنے دیگراہداف کے علاوہ اس ملک کو نازی ازم سے پاک کرنا ہے۔ اگرچہ اسرائیل نے اس تنازع کی مذمت کی اور ماسکو پر جنگی جرائم کا الزام لگایا ہے مگر وہ شام میں روس کے ساتھ فوجی تعاون برقراررکھنے کے لیے اب تک کھل کریوکرین کا ساتھ دینے میں محتاط رہا ہے۔

لیکن اسی ہفتے روسی وزیرخارجہ سرگئی لافروف کے ایک متنازع بیان نے دونوں ملکوں کے درمیان ایک نئی کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ سرگئی لافروف نے ایک انٹرویو میں دعویٰ کیا تھاکہ نازی رہ نما ایڈولف ہٹلر’’یہودی الاصل‘‘ تھے۔

اتوار کے روز لافروف نے اطالوی ٹی وی میڈیا سیٹ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا:’’جب وہ کہیں گے کہ اگرہم یہودی ہیں تو نازی فیکیشن(نازیت) کیسے موجود ہو سکتی ہے؟ میری رائے میں ہٹلرکی اصل نسل یہودی بھی تھی، لہٰذا اس کا کوئی مطلب نہیں ہے۔کچھ عرصے سے ہم نے یہودی لوگوں سے سنا ہے کہ سب سے بڑے صہیونی مخالف یہودی ہی تھے‘‘۔

ان کے تبصروں نے اسرائیلی حکام کو مشتعل کردیا ہے۔انھوں نے ان کے بیان کو’’ناقابل معافی‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے اور احتجاج کے لیے وزارت خارجہ میں روسی سفیر کو طلب کیا ہے۔

اسرائیلی وزیرخارجہ یائرلاپیڈ نے کہاکہ ’’اسرائیل اگرچہ روس کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی ’’ہرممکن کوشش‘‘کرتا ہے لیکن اس کی ایک حد ہے اور اس بار تویہ حد عبور کر لی گئی ہے‘‘۔انھوں نے مزیدکہا:’’روس کی حکومت کو ہم سے اور یہودی عوام سے معافی مانگنے کی ضرورت ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں