اسرائیل کا پہلی باراپنے یوم تاسیس پر مغربی کنارے کی فضا میں ایئر شو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اگرچہ نئی اسرائیلی حکومت نے مغربی کنارے کے الحاق کے منصوبے کو منسوخ کر دیا ہے لیکن اسرائیل کی "پیس ناؤ" تحریک کے مطابق ہیبرون کے قلب میں پہلی بستی کی تعمیر کی منظوری غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ یہ کالونی پچھلی صدی کی 80 کی دہائی میں منظور کی گئی مگر اس پرکام شروع نہیں کیا گیا تھا۔ اسرائیل ایک طرف غرب اردن کے فلسطینی اکثریتی علاقے الخلیل میں نئی یہودی بستی تعمیر کرنا چاہتا ہے اور دوسری طرف اسرائیل نے پہلی بار اپنے یوم تاسیس پر الخلیل کی فضا اور جنوبی بیت لحم کی گش عتزیون میں فوجی پریڈ اور فضا میں ایئر شو کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایئرشو کل جمعرات کو پیش کیا جائے گا۔

اگرچہ یہ اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے جو ہیبرون میں آباد کاروں کو 1948 میں اسرائیل کے قیام کا جشن منانے کے لیے فوجی پریڈ دیکھنے کا موقع دےگا۔ ہیبرون بستیوں کے بلاک کے سربراہ ایلیاہو لیبمین نے اسے "جرات مندانہ، اور غرب اردن کے علاقوں کو اسرائیل میں شامل کرنے کا حصہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں غرب اردن پر فخر ہے۔ یہ "یہودا اور سامرا‘ میں زمین اور آباد کاری کی ترقی میں ایک اور تعمیرات کا سنگ بنیاد ثابت ہوگا۔ خیال رہے کہ یہودا اورسامرا غرب اردن کے علاقوں کے لیے اسرائیل کی عبرانی زبان میں استعمال کی جانے والی اصطلاح ہے۔

اسرائیلی بائیں بازو کی "بریکنگ دی سائیلنس" تنظیم نے مغربی کنارے کی بستیوں کے آسمانوں میں فوجی شو منعقد کرنے کی مخالفت کی اور اسے "الحاق کا ایک اور مرحلہ ہے۔"

اسرائیلی امور کے ایک ماہرعصمت منصور کا خیال ہے کہ ہیبرون میں فوجی پریڈ کا انعقاد "مغربی کنارے اور اسرائیل کے درمیان گرین لائن کو منسوخ کرنے کے لیے تل ابیب کے ایک منظم منصوبے کا حصہ ہے۔

"گرین لائن" سے مراد اسرائیل اورفلسطینی علاقوں کو الگ کرنے والی لکیر ہے جس پر اس نے سب سے پہلے 1967 میں قبضہ کیا تھا۔ یہ گرین لائن اقوام متحدہ نے 1949 میں اردن کے ساتھ جنگ بندی کے بعد قائم کی گئی تھی۔

منصور نے نشاندہی کی کہ اسرائیل کے قیام کی سالگرہ منانے کے لیے فوجی پریڈ میں مغربی کنارے کے علاقوں کو شامل کرنا "ایک دانستہ عمل ہے، جو دائیں بازو کے نظریے کے مطابق جس کی قیادت وزیراعظم نفتالی بینیٹ کر رہے ہیں۔

منصور نے وضاحت کی کہ اسرائیلی دائیں بائیں بازو کی جماعتوں کے نظریے کی مخالفت کے باوجود حکومت میں اپنے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

1967 کے بعد سے اسرائیل نے مشرقی یروشلم کو چھوڑ کر مغربی کنارے میں 200 سے زیادہ بستیاں قائم کی ہیں جن میں 650,000 سے زیادہ آباد کار رہتے ہیں۔ بینیٹ مغربی کنارے کو متنازعہ اور غیر مقبوضہ علاقہ سمجھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں