دبئی کے نئے کرپٹوکرنسی ریگولیٹر کے ورچوئل صدردفاتر کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

دبئی کے نئے کرپٹوکرنسی ریگولیٹر نے سینڈ باکس میٹاورس پلیٹ فارم میں ایک ورچوئل ہیڈکوارٹر قائم کیا ہے۔

امارت کی ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (وارا) کا دعویٰ ہے کہ یہ دنیا کا پہلا ریگولیٹر ہے جس نے میٹاورس میں اپنا ہیڈکوارٹر قائم کیا ہے۔

سینڈ باکس کے چیف ایگزیکٹوآفیسر( سی ای او)اور شریک بانی سیبسٹیئن بورگیٹ نے العربیہ انگلش کو بتایا کہ ہم دبئی کی ورچوئل ایسٹس (مجازی اثاثہ جات) ریگولیٹری اتھارٹی اور متحدہ عرب امارات کے ترقی پسند مشن کو دیکھ کر بہت خوش ہیں اور اپنےآپ کواختراع میں سب سے آگے لارہے ہیں تاکہ اوپن میٹاورس میں پہلا ریگولیٹر بن کر موجودہ عالمی تحریک کو فعال بنایا جاسکے۔

دبئی نے مارچ میں وارا(وی اے آر اے) کا قیام کرپٹوکرنسی ٹریڈنگ اور غیرفنگی ٹوکن (این ایف ٹی) سمیت دیگر مجازی اثاثوں کے تبادلے کی نگرانی کے لیے عمل میں لایا تھا۔اس کے اولین اقدامات میں سے ایک کرپٹوکرنسی ایکسچینج بِننس کو ورچوئل اثاثہ لائسنس جاری کرنا تھا۔

بننس کو اس سے قبل بحرین میں کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی اور بعد میں ابوظبی کی امارت نے بھی اسے اصولی منظوری دے دی تھی۔سینڈ باکس ایتھریم بلاک چین سے منسلک ایک پلیٹ فارم ہے جس میں لوگ زمین کے پلاٹ خرید اورفروخت کرسکتے ہیں،کھیل کھیل سکتے ہیں اور مجازی کرنسی کما سکتے ہیں۔

سینڈ باکس کا ایک الفا ورژن نومبر 2021 میں لائیو ہوا تھا اور اس کی ریلیز پرقریباً 16,000 افراد نے زمین کے ورچوئل پلاٹ خریدے تھے۔اس پلیٹ فارم میں اسپورٹس ویئرکمپنی ایڈیڈاس، گیمنگ جائنٹ اٹاری اور ریپر اسنوپ ڈوگ سمیت معروف برانڈ موجود ہیں۔اس کی مالی معاونت سافٹ بینک وژن فنڈ نے کی تھی جسے سعودی پبلک انویسٹمنٹ فنڈ (پی آئی ایف) نے مشترکہ طور پرقائم کیا تھا۔

دبئی کے ولی عہد شیخ حمدان بن محمد بن راشدآلِ مکتوم نے ایک بیان میں کہا کہ آج وارا دبئی پہلی سرکاری اتھارٹی بننے کے لئے میٹا ورس میں شامل ہوگیا ہے جس سے ایک نئے دورکا آغازہوا ہے اور اس سے ظاہر ہے کہ دبئی حکومت اپنی خدمات میں توسیع کے لیے جدید اختراعات کا استعمال کرتی ہے۔

دبئی ورلڈ ٹریڈ سنٹراتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل ہلال سعید المری کا کہنا ہے کہ’’سینڈ باکس میں وارا کی جگہ حاصل کرنا اس شعبے پر ہمارے یقین کی علامت ہے اور حکومت کی حیثیت سے یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم وہ پل بنیں جو سرمایہ کاروں اورصارفین کو محفوظ طریقے سے مل کرنئی معیشت کو اپنانے اور مشترکہ طور پرآگے بڑھانے کی اجازت دیتا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں