صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے ملکوں کی فہرست میں پاکستان 157 نمبر پر آ گیا

میڈیا آزادی کی نئی عالمی درجہ بندی میں روس اور چین میڈیا فریڈم کی انتہائی نچلی سطح پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

عالمی صحافتی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) کی حال ہی میں جاری ہونے والی رپورٹ کے مطابق روس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دنیا بھر میں غلط معلومات اور پروپیگنڈہ کا رواج عروج پر ہے جس کی وجہ سے غیر جانبدارانہ رپورٹنگ پر مضر اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔

ادارے کی جانب سے 2022 کے لیے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس منگل کے روز جاری کیا گیا۔ اس انڈیکس میں پاکستان بارہ درجے تنزلی کے ساتھ اس برس 157ویں نمبر پر چلا گیا ہے۔ بھارت 8 درجے تنزلی کے ساتھ 150 جب کہ سری لنکا 146، بنگلہ دیش 162 اور میانمار 176 کی درجہ بندی پر ہے۔

پیرس سے تعلق رکھنے والی صحافیوں کے لیے کام کرنے والی عالمی تنظیم نے کہا ہے کہ روس کے یوکرین پر حملہ آور ہونے کے بعد بین الاقوامی طور پر فیک نیوز اور پروپیگنڈا میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

صحافتی واچ ڈاگ ادارے کا کہنا ہے کہ اس کی تحقیق میں دیکھا گیا ہے کہ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں میڈیا میں تفریق پائی جاتی ہے۔

امریکہ کے وزیرخارجہ انٹونی بلنکن نے آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر خبردار کیا ہے کہ روس اور چین وسطی اور مشرقی یورپ کے ممالک کی جمہوری اور خودمختار مرضی کو نقصان پہنچانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان دو عوامل کو کشادہ دلی کے اصول کے طور پر مضبوطی سے تھامے رکھنے کی ضرورت ہے۔

انٹونی بلنکن نے ہنگری میں آزادی صحافت کی گرتی ہوئی صورتحال کو پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ وزیراعظم وکٹر اوربان پر زور دیں گے کہ وہ کثیر جہتی کا احترام کریں۔

وہ محکمہ خارجہ میں پریس کی آزادی کے دن کی مناسبت سے ہونے والی تقریب میں ہنگری کے خبررساں ادارے ’ ٹیلیکس‘ سے وابستہ صحافی کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔ ’’یہ جمہوریت کا لباس ہے اور ہم یقیناً ہنگری کی حکومت پر زور دیں گے کہ وہ ایک کھلے ماحول کو فروغ دیں۔‘‘

گروپ کی سالانہ رپورٹ میں 180ممالک کو غیر جانبدارانہ صحافت کے لیے موجود ماحول کی بنیاد پر رینکنگ کی گئی ہے۔ آر ایس ایف کا کہنا ہے کہ اس بار انہوں نے تحقیق کے لیے نئے طریقہ کار کا انتخاب کیا ہے جس میں اس ملک کی سیاسی، قانونی، معاشی، سماجی وثقافتی اور سلامتی کی صورت حال کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

اس انڈیکس میں 28 ممالک کی درجہ بندی میڈیا کی آزادی کے لیے انتہائی بری صورت حال کے طور پر کی گئی ہے۔ ان ملکوں میں چین بھی شامل ہے جو سنسرشپ کے رجحان کو برآمد بھی کر رہا ہے اور کریملن کی جانب سے روس کے یوکرین پر حملہ آور ہونے سے متعلق پروپیگنڈا کو بھی بڑھا چڑھا رہا ہے۔

یوکرین پر روس کی جانب سے حملہ آور ہونے کے بعد روس نے ملک میں خبروں کی کوریج پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ایک نئے قانون کے تحت فوج سے متعلق ’’غلط خبر‘‘ رپورٹ کرنے پر 15 برس کی قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اس کشیدگی کو جنگ قرار دینے کی بھی ممانعت ہے۔ ملک میں غیر جانبدارانہ نیوز ادارے بند ہونے پر مجبور ہیں یا چند ایسے ہیں جو ملک سے باہر سے اپنی کوریج کرنے پر مجبور ہیں۔

روس اس انڈیکس کے مطابق میڈیا کی آزادیوں کے لحاظ سے 180 ممالک کی فہرست میں 155 کے درجے پر آتا ہے۔ چین کا درجہ 175 واں ہے۔ بیجنگ کے مکمل طور پر اثر میں آنے کے بعد ہانگ کانگ میں بھی میڈیا کی آزادیاں محدود ہوئی ہیں اور ملک 148ویں درجے پر چلا گیا ہے۔

آر ایس ایف کی رپورٹ کے مطابق 2013 سے اقتدار میں آنے کے بعد سے صدر ژی جن پنگ نے میڈیا سے متعلق ماؤزے تنگ کے زمانے کی صورت حال پیدا کر دی ہے جہاں معلومات تک رسائی بھی جرم قرار دے دیا گیا ہے اور معلومات فراہم کرنا تو اس سے بھی بڑا جرم ہے۔

ادارے نے جنوبی کوریا، میانمار اور افغانستان کی مثالیں دیتے ہوئے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ دنیا بھر میں سیاسی خلفشار، کشیدگی اور آمریت کی وجہ سے برسوں کی محنت ضائع ہو گئی ہے۔

رپورٹرز ود آوٹ بارڈر کے مطابق افغانستان جو سال 2021 میں پریس فریڈم انڈیکس میں 122ویں نمبر پر تھا، اپنی درجہ بندی میں 34 نمبروں کی تنزلی کے سات 156ویں نمبر پر آ گیا ہے۔ ادارے کے مطابق یہ درجہ بندی ظاہر کرتی ہے کہ افغانستان کے اندر صحافیوں اور میڈیا کو کس طرح کی مشکل صورتحال کا سامنا ہے۔

امریکہ کا 42 واں درجہ

ادارے کا کہنا ہے کہ امریکہ بھی میڈیا کی آزادیوں کے لحاظ سے ’پرفیکٹ‘ نہیں ہے۔ امریکہ کو میڈیا کی آزادیوں کے لحاظ سے 42 واں درجہ دیا گیا ہے۔ آر ایس ایف کے مطابق ملک میں مقامی اخباروں کا ختم ہوجانا، میڈیا میں تفریق، ڈجیٹل پلیٹ فارمز کی وجہ سے صحافیوں کے خلاف عداوت اور جارحانہ رویوں کا پروان چڑھنا شامل ہے، جس سے صحافت کو نقصان پہنچا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں