افغانستان وطالبان

طالبان کی خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا روکنے کی درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

طالبان حکام نے افغانستان کے سب سے ترقی یافتہ شہر ہرات کے حکام سے ڈرائیونگ اسکولوں کے انسٹرکٹرز سے کہا ہے کہ وہ خواتین کو لائسنس جاری کرنا روک دیں۔ ڈرائیونگ اسکولوں کے ذمہ داران اور ماہرین نے خبر رساں ادارے’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طالبان کی طرف سے انہیں خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس کا اجرا روکنے کو کہنا ہے تاہم سرکاری سطح پر اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں ہوا ہے۔

ڈرائیونگ اسکولوں کی نگرانی کرنے والے ہرات ٹریفک مینجمنٹ انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر جان آغا اچکزئی نے کہا کہ "ہمیں خواتین کو ڈرائیونگ لائسنس جاری نہ کرنے کی زبانی ہدایات موصول ہوئی تھیں لیکن ہمیں شہر میں خواتین کو ڈرائیونگ سے روکنے باضابطہ احکامات نہیں ملے ہیں۔"

افغانستان ایک قدامت پسند ملک ہے لیکن خواتین کے لیے بڑے شہروں میں گاڑی چلانا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ شمال مغرب شہرہرات ملک کے باقی حصوں کے مقابلے نسبتاً ترقی یافتہ سمجھا ہے جہاں خواتین کا ڈرائیونگ کرنامعلوم کی بات ہے۔

صوبے میں محکمہ اطلاعات و ثقافت کے سربراہ نعیم الحق حقانی نے تصدیق کی کہ کوئی سرکاری حکم جاری نہیں کیا گیا ہے۔

طالبان نے بڑے پیمانے پر تحریری قومی حکم نامے جاری کرنے سے گریز کی پالیسی پرعمل کیا ہے اور کسی جگہ کوئی نیا فیصلہ نافذ کرنا ہو تو اسے زبانی طور پرعمل مین لایا جاتا ہے۔

خواتین کا احتجاج

ہرات میں ڈرائیونگ کوچ 29 سالہ عدیلہ عدیل کا کہنا ہے کہ تحریک طالبان چاہتی ہے کہ آنے والی نسل کو اپنی ماؤں کے مواقع نہ ملیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں ڈرائیونگ کا سبق نہ دینے اور لائسنس جاری نہ کرنے کے لیے کہا گیا تھا۔

ایک دوسری خاتون شیما وفا نے عید کی شاپنگ کے لیے بازار جاتے ہوئے کہا کہ"میں چاہتی ہوں کہ میں اپنے بھائی یا شوہر کے گھر آنے کا انتظار کیے بغیر اپنی گاڑی میں اپنے خاندان کو ڈاکٹر کے پاس لے جا سکوں"۔

برسوں سے اپنی گاڑی خود چلانے والی فرشتہ یعقوبی کا کہنا ہے کہ درحقیقت ایک عورت کے لیے اپنی گاڑی خود چلانا زیادہ محفوظ ہے۔

26 سالہ زینب محسنی نے حال ہی میں لائسنس کے لیے درخواست دی ہے۔وہ سمجھتی ہیں کہ خواتین اپنی گاڑیوں میں مردوں کی طرف سے چلائی جانے والی ٹیکسیوں کے مقابلے میں زیادہ محفوظ محسوس کرتی ہیں۔ نوجوان خاتون اس نئے اقدام کو ایک اضافی علامت کے طور پر دیکھتی ہے کہ نیا نظام افغان خواتین کو چند بچ جانے والے حقوق سے لطف اندوز ہونے سے نہیں روکے گا۔

طالبان نے گذشتہ اگست میں اقتدار پر قبضہ کرتے ہوئے 1996 اور 2001 کے درمیان اپنے سابقہ دور حکومت کے مقابلے میں زیادہ لچکدار نظام کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم اس کے باوجود طالبان پرسخت گیر طرز حکومت نافذ کرنے اور خواتین کے بنیادی حقوق دبانے کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں