یونان: نیونازی گروپ کے اپیل ٹرائل سے قبل پاکستانی کارکن کو گولی ماردی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یونان میں نسل پرستی کے خلاف سرگرم ایک گروپ نے بدھ کے روز بتایا کہ بدنام زمانہ نیونازی گروپ گولڈن ڈان سے متعلق اپیل کے اہم مقدمے کی سماعت سے قبل ایک پاکستانی تارکِ وطن کارکن کو مشتبہ نفرت انگیز جرم میں سر میں گولی مار دی گئی ہے۔

کیرفا گروپ نے بتایا کہ 26 سالہ علی ریاض پر پیر کے روز ایتھنز کے وسطی علاقے میں ایک ٹیکسی ڈرائیور نے فائرنگ کی تھی۔اس وقت پاکستانی کارکن اوردوسرے مسلمان رمضان المبارک کے اختتام پرنماز ادا کرنے کے بعدمسجد سے واپس آرہے تھے۔

گروپ نے بتایا کہ بعد میں ڈاکٹروں نے اس کے سر کے بائیں حصے سے ایک گولی نکال لی ہے۔زخمی ریاض نے حملہ آور کے بارے میں سرکاری ٹی وی ای آر ٹی کو بتایا کہ ’’میں نے اس کا چہرہ نہیں دیکھا... لیکن وہ سفید فام تھا‘‘۔

یہ واقعہ 15 جون کو نیونازی گروپ کی سزاؤں کے خلاف اپیل کے مقدمے سے قبل پیش آیا ہے جس میں گولڈن ڈان گروپ کے درجنوں ارکان ماخوذ کیے گئے تھے۔گولڈن ڈان پہلے یونان کی تیسری مقبول ترین جماعت تھی۔

اکتوبر 2020 میں ایک یونانی عدالت نے اپنے فیصلے میں گولڈن ڈان کے رہ نما نکوس میکالولیاکوس اورقریباً 60 دیگر اراکین کو ایک جرائم پیشہ تنظیم کی سرگرمیوں میں شرکت کا مرتکب قراردیا تھا۔اس گروہ سے منسوب جرائم میں یونانی نسل پرستی مخالف ریپرکا قتل اور ایک مصری ماہی گیر پر سخت جسمانی تشدد کا واقعہ شامل ہے۔

2020ء میں سزا پانے والے 57 افراد میں سے 40 کو جیل بھیج دیا گیا تھا۔ ان میں سے 35 اب بھی جیل میں ہیں۔گولڈن ڈان ایک نسل پرست ،متعصب اور سامی مخالف تنظیم ہے۔ یہ یونانی سیاست کے منظرپرملک کو 2010 میں درپیش ہونے والے قرضوں کے سنگین بحران کے وقت تک موجود تھی۔

اس نے امیگریشن اور کفایت شعاری کے اقدامات پرعوام کے غیظ وغضب کا فائدہ اٹھایا تھا اور 2012 میں منعقدہ انتخابات میں پہلی بار پارلیمان کی 18 نشستوں پر کامیابی حاصل کی تھی۔اس کے تین سال بعد گولڈن ڈان ملک کی تیسری طاقتور ترین سیاسی قوت بن کر ابھری تھی۔

گذشتہ دوسال سے جیل میں قید گولڈن ڈان کے قائدین میں سے ایک پارٹی کے سابق ترجمان ایلیاس کاسیڈیارس ہیں۔ انھوں نے ایک نئی قوم پرست جماعت تشکیل دی ہے۔اس کو رائے عامہ کے جائزوں میں دو فی صد سے بھی کم یونانیوں کی حمایت حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں