بالٹک ریاستوں کو یورپی گیس نیٹ ورک سے ملانے کے لیے نئی پائپ لائن کی تنصیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پولینڈ اور بالٹک ریاستوں نے جمعرات کو ایک نئی گیس پائپ لائن کا افتتاح کیا ہے۔یہ یورپی یونین کے شمال مشرقی ممالک کو باقی بلاک سے ملاتی ہے اور یہ روسی گیس پر انحصار کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

پولینڈ اورلتھوینیا کے گیس نیٹ ورکس کو ملانے والی 508 کلومیٹر طویل (316 میل) پائپ لائن تکمیل کے بعد ہرسال قریباً دوارب مکعب میٹرگیس کسی بھی سمت میں منتقل کرسکے گی۔

اس سے خطے میں موجودہ گیس نیٹ ورک کی بدولت لٹویا، ایسٹونیا اور یہاں تک کہ فن لینڈ کو بھی وسیع تر یورپی گیس پائپ لائن نیٹ ورک تک رسائی حاصل ہوگی۔

یورپی یونین کےایگزیکٹوز نے بدھ کو یوکرین پر حملہ کرنے پرماسکو کو سزا دینے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کیا تھا۔ان کے تحت روسی تیل کی درآمدات پر بتدریج پابندی عاید کردی جائے گی۔

اگرتنظیم کے رکن ممالک نے اس کی منظوری دے دی تو تیل پر پابندی روسی توانائی کے شعبے کے خلاف یورپی ممالک کا اب تک کا سب سے مشکل اقدام ہوگا جس سے کریملن کو یوکرین میں اپنی جنگ کی مالی معاونت کے لیے مشکلات درپیش ہوسکتی ہیں۔

گذشتہ ہفتے روس کی کمپنی گیزپروم نے پولینڈ اور بلغاریہ کو گیس کی ترسیل روک دی تھی کیونکہ وہ پابندیاں عاید کرنے والے یورپی ممالک کے درمیان تقسیم پیدا کرنا چاہتا ہے۔روسی رسد میں کٹوتی سے نہ صرف ان ممالک بلکہ ممکنہ طور پر یورپ بھر میں گیس کی قلّت پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

تاہم گیس نیٹ ورک کے درمیان باہمی رابطوں میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ یورپی ممالک روس کو کسی ایک ملک پردباؤ ڈالنے سے بہتر طور پر روک سکتے ہیں۔

لتھوینیا کے صدر گیتانس نوسیڈا نے دارالحکومت ولنیوس کے باہرنئی پائپ لائن کی افتتاحی تقریب میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’آج ہم اپنی توانائی کی آزادی کا افتتاح کر رہے ہیں‘‘۔ان کے پولش ہم منصب آندرز دودا نے کہا کہ گیس پائپ لائنوں کو ملانے والا یہ منصوبہ روس کی جانب سے بلیک میلنگ کا جواب ہے۔

پولینڈ کا کہنا ہے کہ اگر ضروری ہوا تو وہ روسی گیس کی ترسیل کو مکمل طورپرمنقطع کرنے کو تیار ہے اور بالٹک ممالک لتھوینیا، لٹویا اورایسٹونیا نے گذشتہ ماہ کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ وہ روسی گیس کی درآمدات روک رہے ہیں اور اپنے ذخائر استعمال کریں گے۔یہ تمام ممالک روسی گیس کی درآمدات پر بہت زیادہ انحصار کرتے ہیں۔

یورپی یونین نے جی آئی پی ایل پائپ لائن کی تعمیرپر اٹھنے والے پچاس کروڑیورو (53 کروڑ ڈالر) میں سے لاگت کا ایک بڑا حصہ امداد کے طورپر مہیّا کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں