سوڈان میں ایندھن سے چلنے والی گاڑیوں کا متبادل "الیکٹرک رکشے"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

’ضرورت ایجاد کی ماں ہے‘ کے مصداق سوڈان کے ایک نوجوان انجینئر نے ایندھن کے بجائے بجلی سے چلنے والے آٹو رکشے تیار کرنے کے منصوبے پر کام شروع کیا ہے۔ سوڈان میں مہنگائی کی وجہ سے ایندھن پر چلنے والے آٹو رکشوں کے مالکان کو مشکلات کا سامنا ہے۔

سوڈان مشکل معاشی حالات میں زندگی گزار رہا ہے، یہی وجہ ہے کہ شہری کم مہنگے طریقوں سے روزی روٹی تلاش کرنے کا سہارا لیتے ہیں۔

دارالحکومت خرطوم کے وسط میں محمد سمیر اور ان کے کارکنان رنگ برنگے "برقی" رکشوں کی تیاری کے طریقے سے کام کر رہے ہیں۔ سمیر کا یہ منصوبہ ایک ایسے وقت میں جاری ہے جب ایندھن سے چلنے والی دسیوں ہزار چھوٹی کاریں ملک میں موجود ہیں۔ یہ برقی رکشے ایندھن پرچلنے والی کاروں کا ارزاں متبادل ہوسکتے ہیں۔

ایک ایسے ملک میں جہاں 25 اکتوبر کے بحران کے بعد ایندھن کی قیمت دوگنی ہو گئی ہے اور مہنگائی 250 فیصد تک جا چکی ہے۔ 44 سالہ انجینیر چند مہینوں میں تقریباً 100 الیکٹرک رکشے تیار کرچکا ہے جب کہ ان میں سے تین پہیو پر چلنے والے ایک درجن رکشے فروخت بھی ہوچکے ہیں۔

سمیر نے ’اے ایف‘ پی کو بتایا کہ ٹک ٹوک[رکشہ] ڈرائیور جو ایندھن پر گاڑیاں چلا چکے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہم جو متبادل پیش کرتے ہیں وہ کتنا اہم ہے کیونکہ وہ تکلیف میں ہیں۔

درحقیقت ان چھوٹی کاروں کے ڈرائیوروں کی ایک بڑی تعداد شکایت کرتی ہے کہ وہ خسارے میں جا رہے ہیں۔ انہیں کرائے پرسواری ملتی ہے اور نہ سامان لے جانے کا موقع ملتا ہے۔

سمیر نے کہا کہ ان کے ملک کو اقوام متحدہ کی طرف سے موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل کیا گیا ہے۔ ایسے میں برقی رکشے تین اضافی خصوصیات بھی رکھتے ہیں۔ یہ غربت سے نمٹنے، صحت کی حفاظت اور ماحولیات کی حفاظت کے پیش نظر تیار کیے گئے ہیں۔

وقت اور پیسے کی بچت

سنہ 2020 کے آخر میں اقوام متحدہ نے کہا کہ "ٹک ٹوکس سے خارج ہونے والی گیسیں سوڈان میں جہاں تقریباً کوئی پبلک ٹرانسپورٹ نہیں ہے نظر میں کمی، سانس کے مسائل اور ماحول کو نقصان پہنچانے کا باعث بنتی ہیں۔ شور کی آلودگی اس کے علاوہ ہے۔

بکری محمد جو اپنی الیکٹرک بائیک پر سبزیاں بیچتے ہیں کہتے ہیں کہ ایندھن سے چلنے والی گاڑی پر کام کرنے سے بجلی سے چلنے والی گاڑی کی طرف جانا "ایک حقیقی فائدہ تھا"۔اس سے پیسہ اور وقت دونوں کی بچت ہوتی ہے۔ اس سے میری آمدنی دگنا ہوگئی ہے۔ ڈرائیوروں کو گیس اسٹیشنوں پر طویل گھنٹے کھڑے رہنا پڑتا تھا مگر اب ہمیں اس کے تردد کی ضرورت نہیں۔ ویسے بھی گیس فلنگ اسٹیشن سوڈانی دارالحکومت میں نایاب ہو چکے ہیں۔

اس کا کہنا تھا کہ اس کی الیکٹرک کار کو ایک ہی بار چارج کرنا ایک ہفتے کے لیے کافی ہے۔

سمیر بتاتے ہیں کہ کار کا 100 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنے کے لیے اس کی بیٹری کو آٹھ گھنٹے تک چارج کرنا ضروری ہے۔ اس کا کہنا تھا کہ یہ آٹو رکشہ بہت کم آواز دیتا ہے جس سے شورشرابے کی آلودگی بھی کم ہو رہی ہے۔

لوڈشیڈنگ ایک اہم مسئلہ

خوش قسمتی سےڈرائیور رات کے وقت اپنے رکشے کی بیٹری چارج کر سکتے ہیں۔ یعنی جب وہ کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ دن کو بجلی کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے جب کہ رات کے وقت بجلی زیادہ نہیں جاتی۔ بعض اوقات دن میں بھی رکشے کی بیٹری چارج کی جا سکتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ سوڈان میں بجلی بھی مہنگی ہے۔حکومت نےبین الاقوامی امداد کی بندش کے بعد جنوری میں بجلی کی قیمت پانچ گنا بڑھا دی تھی۔

اس کے باوجود سمیر کے مطابق ٹک ٹوک کو بجلی سے چارج کرنا ایندھن سے مہنگا نہیں پڑتا۔

فرق کم نہیں ہےکیونکہ ایک لیٹر ایندھن کی قیمت 700 سوڈانی پاؤنڈ یا تقریباً 1.25 ڈالر ہے جب کہ آٹھ گھنٹے بجلی پر بیٹری چارج کرنے سے 300 پاؤنڈ بجلی کا خرچ آتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں