لاوروف کا یہودیوں کے بارے میں بیان جھوٹ،معافی مانگیں: اسرائیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی صدر اسحاق ہرزوگ نے کہا ہے کہ روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے بیان جس میں انہوں نے کہا تھا کہ نازی رہ نما ایڈولف ہٹلریہودی نسل سے ہوسکتے ہیں۔ یہ کہ نیو نازی اس وقت کیف پر حکومت کر رہے ہیں جھوٹ پر مبنی ہے۔ انہوں نے روسی وزیر سے مطالبہ کیا کہ اپنے الفاظ واپس لیں اور معافی مانگیں۔

اسرائیلی اخبار "ہارٹز" کی رپورٹ کے مطابق صدر ہرزوگ نے کہا کہ میں یقین نہیں کر سکتا تھا کہ روسی وزیر خارجہ نے یہ کہا ہے۔ مجھے ان کی باتوں پرسخت غصہ ہے اور مجھے سخت ناگوار گذرا ہے۔

ہرزوگ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان بیانات کو درست کرنا ضروری ہے۔ لاوروف کے بیانات سے اسرائیل اور روس کے تعلقات کو نقصان نہیں پہنچے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے روسی وزیر خارجہ کے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے پیر کو ایک بیان میں کہا تھا کہ اس طرح کے جھوٹ کا مقصد خود یہودیوں پر تاریخ کے سب سے گھناؤنے جرائم کا الزام لگانا ہے۔

سرگے لاوروف نے اتوار کو جاری ہونے والے ایک انٹرویو میں اطالوی آؤٹ لیٹ میڈیا ریٹ 4 چینل سے بات کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے صدر وولود ی میر زیلنسکی’اس بات کی دلیل پیش کرتے ہیں کہ اگر وہ خود یہودی ہیں تو ان کے پاس کس قسم کا نازی ازم ہوسکتا ہے۔‘

روسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر پوسٹ کے گئے سکرپٹ کے مطابق سرگے لاوروف نے پھر مزید کہا:’میں غلط ہو سکتا ہوں لیکن ہٹلر میں بھی یہودی خون تھا۔‘

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیرخارجہ یائر لاپید نے ان تبصروں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’ناقابل معافی اور مکروہ بیان کے ساتھ ساتھ ایک خوفناک تاریخی غلطی‘ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہولوکاسٹ میں یہودیوں نے خود کو قتل نہیں کیا۔ ’ یہودیوں پر یہود دشمنی کا الزام لگانا یہودیوں کے خلاف نسل پرستی کا سب سے نچلا درجہ ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں روسی سفیر کو ’وضاحتی ملاقات‘ کے لیے طلب کیا گیا ہے۔

اسرائیل کے وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے بھی روس کے وزیرخارجہ سرگے لاوروف کے اس’جھوٹ‘ کی بھی مذمت کی جس میں انہوں نے’یہودیوں پر اپنے ہی خلاف کیے گئے تاریخ کے سب سے بھیانک جرم کا الزام لگایا۔‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں