سعودی شہری ریاست کے اقتصادی رجحانات پر اعتماد کرنے میں دنیا میں سرفہرست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

مملکت سعودی عرب اپنے اقتصادی رجحانات کے درست سمت میں گامزن ہونے کے حوالے سے عالمی سطح پر پہلے نمبر پر ہے۔ یہ بات عالمی سطح پر تحقیق کرنے والی کمپنی Ipsos کی جانب سے کرائے گئے ایک سروے میں سامنے آئی۔ یہ سروے روں سال 25 مارچ سے 3 اپریل کے درمیان ہوا۔

سروے کے مطابق سعودی عرب کو اس حوالے سے کئی بڑے صنعتی ممالک پر برتری حاصل ہے۔ ان میں امریکا، بھارت، جمرنی، جاپان، برطانیہ اور فرانس شامل ہیں۔ واضح رہے کہIpsos کمپنی دنیا میں تیسری بڑی ریسرچ ایجنسی شمار ہوتی ہے۔ سروے کے مطابق سعودی معیشت ، کام کی منڈی اور سرمایہ کاری نظام کے بنیادی ڈھانچے میں اصلاحات کے نتیجے میں مملکت کی آمدنی کے ذرائع، سرمایہ کاری کے مواقع اور مرد و خواتین شہریوں کے لیے ملازمتوں کے مواقع میں تنوع پیدا کیا۔

مذکورہ اشاریے میں دنیا بھر میں 27 ممالک میں اقتصادی ، سماجی اور سیاسی عوامل کو شامل کیا گیا۔ اقتصادی میدان میں سعودی عرب پہلے نمبر پر آیا جہاں 92% کے نزدیک وہ درست سمت میں گامزن ہے۔ سعودی عرب کا اسکور اس حوالے سے مقرر عالمی اوسط اسکور 35% سے 57 درجے آگے ہے۔ علاوہ ازیں فہرست میں دوسرے نمبر پر آنے والے ملک سے 18 پوائنٹس آگے ہے۔

اشارے میں 27 ممالک کا پانچ اہم ترین عوامل میں موازنہ کیا گیا۔ یہ عوامل افراط زر، غربت اور سماجی عدم مساوات، بے روز گاری، جرائم اور تشدد، اقتصادی اور سیاسی بدعنوانی ہیں۔

درست سمت میں گامزن ہونے کے حوالے سے جہاں سعودی باشندوں نے اپنی ریاست پر سب سے زیادہ 92% اعتماد کا اظہار کیا۔ وہاں بڑے صنعتی ممالک میں یہ تناسب 50% سے بھی درج ذیل ترتیب سے رہا: جرمنی (46%) ، جاپان (39%)، امریکا (34%) ، برطانیہ (34%) اور فرانس (32%).

مقبول خبریں اہم خبریں