اسرائیلی سپریم کورٹ نے 8 فلسطینی دیہات منہدم کرنے کی راہ ہموار کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل میں سپریم کورٹ نے حکومت کے اس فیصلے کے خلاف درخواست مسترد کر دی جس میں مقبوضہ مغربی کنارے میں دیہی علاقے سے ایک ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔ اس حکم کا مقصد اسرائیلی فوج کے لیے اس علاقے کو خالی کرانا ہے جہاں فوجی تربیتی مشقیں انجام دی جاتی ہیں۔

تقریبا 20 برس تک غیر فیصلہ کن قانونی جنگ کے بعد اسرائیلی سپریم کورٹ نے بدھ کو رات گئے اپنا فیصلہ جاری کیا۔ اس طرح الخلیل شہر کے نزدیک چٹانوں والے علاقے میں 8 دیہات کو منہدم کرنے کی راہ ہموار کر دی گئی۔

سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ "عدالت کہ سامنے یہ بات آئی ہے کہ اسرائیلی فوج نے 1980ء کی دہائی میں جب مذکورہ علاقے کو فوجی تربیت کا علاقہ ہونے کا اعلان کیا تھا تو اس وقت فلسطینی آبادی یہاں مستقل صورت میں مقیم نہیں تھے"۔

فلسطینی آبادی اور انسانی حقوق کی اسرائیلی جماعتوں کا کہنا ہے کہ 1967ء میں مغربی کنارے پر اسرائیلی قبضے سے قبل متعدد فلسطینی خاندان 7400 ایکڑ رقبے پر مستقل صورت میں مقیم تھے۔ لہذا ان فلسطینیوں کی بے دخلی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو گی۔

علاقے کی مقامی کونسل کے سربراہ نضال ابو یونس نے فون پر روئٹرز نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "سپریم کورٹ نے مقامی آبادی کی درخواست مسترد کر دی۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ عدالت بھی قابض حکام کا حصہ ہے۔ فیصلہ دینے والا جج صرف دو سماعتوں میں حاضر ہوا اور وہ ایک یہودی آباد کار ہے ... ہم اپنے وکلاء کے ساتھ ملاقات میں اس فیصلے میں کسی بھی قانونی سقم کو تلاش کریں گے ... ہم اپنے گھروں کو ہر گز نہیں چھوڑیں گے ، ہم ان ہی میں رہیں گے"۔

فلسطینیوں کے ہاں یورپی اتحاد کے وفد کا کہنا ہے کہ یہ بے دخلی بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔ وفد نے ٹویٹر پر کہا کہ قابض طاقت ہونے کی حیثیت سے اسرائیل پر لازم ہے کہ وہ فلسطینی آبادی کو تحفظ فراہم کرے اور انہیں جبری ہجرت پر مجبور نہ کرے۔

اسرائیلی سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ دیہی علاقے کے فلسطینیوں کے پاس یہ راستہ موجود ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کے ساتھ اس بات کا معاہدہ کر لیں کہ مذکورہ اراضی کے کچھ حصوں کو زرعی مقصد کے لیے استعمال میں لایا جا سکے۔ عدالت نے فریقین پر زور دیا کہ اس معاملے کا تصفیہ کریں۔

اسرائیل میں شہریوں کے حقوق کی انجمن کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے "غیر معمولی" نتائج سامنے آئیں گے۔ یہ انجمن علاقے کی فلسطینی آبادی کی بے دخلی کے ٰخلاف درخواست میں شریک تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں