جوہری ایران

واشنگٹن ایران سے جوہری معاہدہ چاہتا ہے،پاسداران انقلاب سے محاذ آرائی نہیں چاہتا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

ایران اور امریکا کے درمیان ویانا میں ہونے والے مذاکرات میں صرف ایک مسئلہ زیر التوا ہے اور وہ مسئلہ ایرانی سپاہِ پاسداران انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی کے ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ایران کے ساتھ اس کے متنازع جوہری پروگرام پر ہونے والے مذاکرات تین ماہ قبل اسی نقطے پر تعطل کا شکار ہوئے تھے اور اب تک اس میں کوئی پیش رفت نہیں ہوسکی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مذاکرات کو "مشکل" قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم کئی معاملات پر کام کر رہے ہیں جن میں ایران نوازغیر ملکی تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینا بھی شامل ہے، لیکن انہوں نے تفصیلات پر بات کرنے سے انکار کر دیا اور کہا کہ "ہم مکمل معاہدے کی صورت میں ایرن پر عاید پابندیوں میں سے کون کون سی پابندیاں اٹھائیں گے؟ ان کے بارے میں ابھی کچھ نہیں کہا جا سکتا‘‘۔

امریکا کے صدر جوبائیڈن
امریکا کے صدر جوبائیڈن

جوہری خطرہ

وزارت خارجہ کے ترجمان کے مطابق یہ واضح ہے کہ امریکی صدرکی انتظامیہ اپنی پالیسی اس اصول کی بنیاد پر چلاتی ہے کہ جوہری ہتھیار ایک وجودی خطرہ ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ "90 فیصد تک یورینیم کی افزودگی ایک بڑا اضافہ اور ایک بڑا اشتعال انگیز عمل ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران نے فوجی سطح پر افزودگی کا فیصلہ کیا تو یہ عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہو گا اور ایران کی جانب سے ایسا کرنے سے اسے طاقت نہیں ملے گی بلکہ بحران پیدا ہو گا۔

لیکن ایرانی یورینیم کی افزودگی کی سطح میں اضافہ کیے بغیر امریکا اور دنیا کے ساتھ مذاکرات کے پاتال کے دہانے پر چل رہے ہیںں۔ بُحران پیدا نہیں ہوا ہے لیکن دونوں فریق ایک معاہدے تک پہنچنے کے لیے کوشاں ہیں۔ امریکی صدر جو بائیڈن کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار ہے اور وہ کسی بھی وقت پاسداران انقلاب کو "غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں" کی فہرست سے نکالنے کا اعلان کرسکتے ہیں۔۔ایسی صورت میں ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدہ 2015 کی حالت میں آجائے گا۔ یہ وہ مقام ہے جہاں ’نہ جوہری خطرہ اور نہ ہی محاذ آرائی‘ کا اصول اپنایا گیا تھا۔

فقط پابندیاں

موجودہ امریکی صدر کی انتظامیہ کے ناقدین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایران کے مسئلے میں اس کا میزائل پروگرام، گوریلا تنظیمیں، ایران کا عرب دنیا میں اپنی ملیشیاؤں کو مسلح کرنا۔ اس کے علاوہ دہشت گردی کی سرپرستی بھی شامل ہے۔

بائیڈن انتظامیہ ان ایرانی مسائل سے انکار نہیں کرتی اور بائیڈن انتظامیہ کا ہر موجودہ عہدیدار اور ہر ترجمان اس جملے کو تحریری طور پر دہرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہتا ہے کہ "جوہری معاہدے کی طرف واپسی کی صورت میں امریکا موثر ذرائع کو برقرار رکھے گا۔ ان مسائل کو حل کریں گے اورخاص طور پر ایرانی پاسداران انقلاب کا مقابلہ کرنے کے لیے ان ذرائع کو بھرپور طریقے سے استعمال کریں گے۔

لیکن جب ہم امریکی انتظامیہ کے اہلکاروں سے بات کرتے ہیں تو ہم بڑی حد تک سمجھتے ہیں کہ اس سے انتظامیہ کا کیا مطلب ہے اور اس نے اپنے لیے "ایرانی پاسداران انقلاب کا مقابلہ کرنے کے لیے" کیا حدود طے کی ہیں۔

امریکی حکومتی ذرائع سے بات کرنے کے دوران یہ تاثر ملتا ہےکہ ممکن ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے اقدامات کا مقابلہ کرنے کے بارے میں ان کے الفاظ "غیر فوجی معنی" رکھتے ہیں۔

وزارت خارجہ کے ترجمان نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ انتظامیہ کے تحت ایران سے متعلق پابندیوں کی 107 درجہ بندیوں میں سے 86 کو ایرانی پاسداران انقلاب کے خلاف ہیں۔

تصادم کا کوئی منصوبہ نہیں

یہ کہنا بہت ممکن ہے کہ بائیڈن انتظامیہ یہ کہنا چاہتی ہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب کا نام مخصوص فہرست سے نکالا جائے جو کہ غیرملکی دہشت گرد تنظیموں کی فہرست ہے پروٹوکول کا معاملہ ہے۔مختلف قوانین کے تحت پابندیاں عائد رہیں گی لیکن امریکی انتظامیہ کے اہلکار طاقت کے ذریعے ایرانی رویے کا مقابلہ کرنے کے بارے میں بات کرنے کے قریب نہیں ہیں۔ بلکہ وہ ایرانی میزائل پروگرام کی پیشرفت کو روکنے، مشرق وسطیٰ میں میزائلوں اور ڈرونز کی تنصیب سے روکنے کے لیے پابندیاں عائد کرنے کی بات کرتےہیں۔

"العربیہ ڈاٹ نیٹ" اور "الحدث ڈاٹ نیٹ" کے ذرائع میں سے ایک نے اشارہ کیا ہے کہ ایرانی میزائل پروگرام، ہتھیاروں اور ڈرونز کا پھیلاؤ بلاشبہ خطرناک ہے اور انہیں خطے میں موجود ایرانی ملیشیاؤں کی فراہمی سے خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے، لیکن انہوں نے اس بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹنے کے لیے کسی مخصوص امریکی پروگرام کا حوالہ نہیں دیا۔

واشنگٹن میں ایک ذرائع نے بتایا کہ مشرق وسطیٰ میں تعینات امریکی افواج حالات کی ضرورت پڑنے پر جواب دینے کے لیے موجود ہیں، لیکن وہ اسکول کے کھیل کے میدان میں بچوں کے درمیان اصلاح کار کے طور پر موجود نہیں ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں