یمن اور حوثی

سعودی منصوبے کے ضمن میں حوثی قیدیوں کو منتقل کرنے والا پہلا طیارہ یمن پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن میں آئینی حکومت کے حامی عرب اتحاد نے حوثی قیدیوں کو یمن منتقل کرنے والے پہلے طیارے کی روانگی کا اعلان کیا۔ یہ منتقلی سعودی عرب کے انسانی منصوبے کے ضمن میں عمل میں لائی جا رہی ہے۔

اتحاد کے مطابق قیدیوں کو فضائی راستے سے صنعاء اور عدن منتقل کرنے کے 3 مراحل جمعے کے روز مکمل ہو جائیں گے۔

العربیہ اور الحدث کے نمائندے نے بتایا کہ صلیب احمر کا طیارہ 40 حوثی قیدیوں کو لے کر عارضی دارالحکومت عدن پہنچا۔

عرب اتحاد کی افواج کے سرکاری ترجمان بریگیڈیر جنرل ترکی المالکی نے گذشتہ ماہ اپریل میں کہا تھا کہ "اتحاد کی مشترکہ افواج کی کمان کُل 163 حوثیوں کو رہا کرے گی۔ یہ افراد مملکت سعودی عرب کی اراضی کے خلاف لڑائی کی کارروائیوں میں شریک رہے۔ ان قیدیوں کی رہائی انسانی منصوبے کے ضمن میں کی جا رہی ہے"۔

عرب اتحاد کے مطابق یہ اقدام اُن تمام کوششوں اور مساعی کو سہارا دینے کے لیے ہے جو یمنی بحران کے خاتمے اور امن کے قیام کے واسطے کی جا رہی ہیں۔ ان میں اقوام متحدہ کی جانب سے حالیہ جنگ بندی کو مضبوط بنانے کی کوششیں بھی شامل ہیں۔

اتحاد نے واضح کیا کہ مشترکہ افواج کی کمان قیدیوں کی صںعاء منتقلی کا عمل مکمل کرنے کے لیے صلیب احمر تنظیم کے ساتھ رابطہ کاری میں ہے۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ نے رواں سال یکم اپریل کو اعلان کیا تھا کہ یمنی فریقوں نے دو اپریل سے دو ماہ جاری رہنے والی جنگ بندی پر موافقت کا اظہار کر دیا ہے۔ علاوہ ازیں متحارب فریقوں نے یمن میں عسکری کارروائیوں کو مکل طور پر روک دینے ، صنعاء کا ہوائی اڈہ ما قبل مقررہ علاقائی منزلوں کی پروازوں کے لیے کھول دینے اور الحدیدہ کی بندرگاہ میں ایندھن لانے والے بحری جہازوں کے داخلے پر بھی رضامندی کا اعلان کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں