افغانستان:طالبان امیرکاخواتین کوعوامی مقامات پر مکمل برقع اوڑھنے کاحکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

افغانستان کے سپریم لیڈر اورطالبان کے سربراہ نے افغان خواتین کوعوامی مقامات پر مکمل برقع اوڑھنے کا حکم دیا ہے۔ یہ طالبان کے گذشتہ سال اقتدار پرقبضہ کرنے کے بعد سے افغان خواتین کی زندگیوں پرعاید کڑی پابندیوں میں سے ایک ہے۔

کابل میں ہفتے کے روز منعقدہ ایک تقریب میں طالبان حکام کی جانب سے امیر ملّا ہبۃ اللہ اخونزادہ کاجاری کردہ فرمان پڑھ کرسنایا گیا ہے۔اس میں کہا گیا ہے کہ افغان خواتین کو مکمل چادر(سر سے پاؤں کے انگوٹھے تک)اوڑھنی چاہیے کیونکہ یہ روایتی اورقابل احترام ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ جو خواتین زیادہ بوڑھی نہیں یا جوان ہیں،انھیں شرعی ہدایات کے مطابق آنکھوں کے علاوہ اپنا چہرہ ڈھانپنا چاہیے تاکہ انھیں ان مردوں سے ملتے وقت کسی قسم کی اشتعال انگیزی سے بچایاجاسکے جو ان کے محرم (بالغ قریبی مرد رشتہ دار) نہیں ہیں۔

اس میں مزیدکہاگیا ہےکہ’’اگرخواتین کوباہرکوئی اہم کام نہیں تویہ بہترہے کہ وہ گھروں ہی میں رہیں‘‘۔

واضح رہے کہ طالبان نے1996ء سے 2001 تک اپنے پہلے دورِحکومت میں بھی افغان خواتین پراسی طرح کی پابندیاں عایدکی تھیں جس کی وجہ سے انھیں عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔اب بھی ان سے لڑکیوں کو تعلیم کے لیے اسکولوں اورکالجوں میں جانے اورخواتین کو ملازمتوں کی اجازت دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں