روس اور یوکرین

روس کا برطانیہ سے احتجاج، جوابی اقتصادی پابندیوں کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روسی وزارت خارجہ نے جُمعہ کو کہا ہے کہ اس نے روس میں برطانیہ کی سفیر ڈیبورا برونرٹ کو طلب کر کے لندن کی ماسکو کے ذرائع ابلاغ پرعاید کی جانے والی پابندیوں پر شدید احتجاج کیا ہے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ روس لندن کی طرف سے عاید تمام پابندیوں کا "سخت اور پرعزم" جواب دیتا رہے گا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنےآئی جب مئی کے شروع میں برطانیہ نے صحافیوں اور میڈیا اداروں پر پابندیاں عائد کی تھیں جن کا مقصد ماسکو پر یوکرین میں فوجی کارروائی روکنے کے لیے دباؤ بڑھانا تھا۔

درایں اثنا برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے جمعرات کو یوکرین کی مزید فوجی مدد کا وعدہ کیا ہے۔

جانسن نے اپنے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ ہم یوکرین کو مزید فوجی اور انسانی امداد فراہم کریں گے۔ یہ امداد جنگ میں باطل کے خلاف حق کا ساتھ دینا ہے۔

اپنی طرف سے برطانوی فوج نے کہا ہے کہ اس کا ماننا ہے کہ روس پیر کو یوم فتح کے جشن سے پہلے بندرگاہی شہر ماریوپول اور بڑے ازوسٹال پلانٹ پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔

برطانوی فوج نے کہا کہ "زوسٹال کو محفوظ بنانے اور ماریوپول پر قبضہ مکمل کرنے کے لیے روس کی نئی کوششیں ممکنہ طور پر 9 مئی کو یوم فتح کا جشن اور (روسی صدر ولادیمیر) پوتین کی یوکرین میں علامتی کامیابی کی خواہش سے منسلک ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں