روس اور یوکرین

سلامتی کونسل کا یوکرین تنازع کے پرامن حل پر زور، کیف کا روسی بمباری پر انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سفارتی ذرائع کے مطابق جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایک متفقہ بیان جاری کیا ہے جس میں یوکرین اور روس کےدرمیان جاری جنگ کے پر امن حل کے لیے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس کی "مضبوط حمایت" کا اعادہ کیا گیا ہے۔

ناروے اور میکسیکو کی طرف سے تیار کردہ بیان کی نقل خبر رساں ادارے’اے ایف پی‘ کو ملی ہے۔ اس میں گوٹیرس کی ثالثی کی حمایت تو نہیں کی گئی جیسا کہ متن کے پہلے ورژن پر جمعرات سے بات چیت کی گئی ہے۔

منظور شدہ بیان میں 24 فروری کو یوکرین پر روس کے حملے کے بعد پہلی بار سلامتی کونسل کے لیے ایک متفقہ موقف کی عکاسی کی گئی ہے۔

جنگ شروع ہونے کے فوراً بعد روس نے ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا جس میں اس کی مذمت کی گئی تھی اور اس سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ اپنی فوج کو روسی سرزمین سے واپس بلا لے۔

بہت ہی مختصر متن میں کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل یوکرین میں امن و سلامتی کی بحالی کے سلسلے میں گہری تشویش کا اظہار کرتی ہے۔

اپنے بیان میں کونسل کے 15 اراکین نے یاد دلایا کہ تمام رکن ممالک نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے بین الاقوامی اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کرنے کا عہد کیا ہے۔

آخر میں بین الاقوامی تنظیم کے سیکرٹری جنرل سے کہا گیا کہ وہ بیان منظور ہونے کے بعد رپورٹ پیش کریں۔

اقوام متحدہ جس کا مشن دنیا میں امن کو یقینی بنانا ہے نے یوکرین کے تنازعے کے پرامن حل کے لیے ممکنہ ثالث کے طور پر کوئی اقدام نہیں کیا۔ اس کی مداخلت پڑوسی ممالک میں انسانی ہمدردی کے پہلو تک محدود ہے۔

دوسری طرف محاذ جنگ میں یوکرائن کی قومی سلامتی کونسل کے حکام نے روس میں یوم فتح کی تقریبات کے موقع پر اتوار اور پیر کو بمباری میں شدت کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔

یوکرین کی قومی سلامتی اور دفاعی کونسل کے انسداد ڈس انفارمیشن سینٹر کی ایک فیس بک پوسٹ نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ فضائی حملے کے سائرن کو نظر انداز نہ کریں۔

پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ چونکہ روسی افواج محاذ پر کسی حقیقی کامیابی پر فخر نہیں کر سکتیں، اس لیے اس دن یوکرین کے شہروں پر بڑے پیمانے پر بمباری زیادہ ہونے کا اندیشہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں