مئی کی آمد کے ساتھ "ابہا" شہر بنفشی جنگلوں میں کیسے تبدیل ہو گیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

سعودی عرب کے شہر ابہا میں ’جکرانڈا‘ درختوں نے اپنے بنفشی رنگ سے عید سیزن کو حیرت انگیز اور تخیلاتی مناظر پر مشتمل فن پاروں میں تبدیل کر دیا ہے۔ سڑکوں کے کنارے اور باغوں میں ان درختوں کی خوب صورت نے ماحول میں چار چاند لگا دیے ہیں۔

ابہا شہر کے وسط میں سیکڑوں خاندان شارع الفن پر واقع ان درختوں کے اطراف اکٹھا ہو گئے۔ یہ جگہ عسیر صوبے میں جکڑانڈا درختوں کا نمایاں ترین مقام شمار ہوتی ہے۔ شہریوں نے بنفشی اور ارجوانی رنگ کے پھولوں پر مشتمل جنگل کے بیچ عید کی تعطیلات کا وقت گزارا۔

عسیر صوبے کے سکریٹریٹ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے "گرین سعودی عرب" منصوبے کی سپورٹ پر کام کیا۔ اس مقصد کے لیے ابہا شہر میں جکرانڈا کے 25 ہزار درخت لگائے گئے۔ ان کے سبب شہر کے باغوں ، سڑکوں ، راستوں اور میدانوں میں خوب صورتی اور معطر فضاؤں میں اضافہ ہو گیا ہے۔

جکرانڈا دنیا کے خوب صورت ترین درختوں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے کھلتے بنفشی پھول منفرد اور جاذب نظر صورت پیش کرتے ہیں۔ ابہا شہر کی آب و ہوا اس درخت کے لیے نہایت موزوں ہے۔

عسیر صوبے کے سکریٹری ڈاکٹر ولید الحمیدی کے مطابق جکرانڈا کے بنفشی پھول 8 ہفتوں کے عرصے تک کِھلے رہتے ہیں۔ یہ پھول بارش کے بعد امتیازی نوعیت کی خوشبو پھیلاتے ہیں۔

جکرانڈا درخت کی تقریبا 45 اقسام ہوتی ہیں۔ معتدل آب و ہوا کے علاقوں میں اس کے پتے سبز رہتے ہیں جب کہ شدید سردی والے علاقوں میں اس کے پتے گرتے رہتے ہیں۔

یہ درخت بڑھ کر 18 میٹر سے زیادہ اونچا ہو جاتا ہے۔ پہلے سال کے دوران میں یہ 3 میٹر بلند ہو جاتا ہے۔ قدرتی طور پر مارچ اور اپریل کے مہینوں میں اس درخت کی کثرت ہوتی ہے۔ اس درخت کی کاشت پورے سال میں کسی بھی وقت ہو سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں