ٹرمپ انتخابات سے قبل اہم ایرانی فوجی افسر کے قتل کے لیے کوشاں تھے: امریکی ذمے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سال 2020ء کے انتخابات سے کچھ عرصہ قبل سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مشیر برائے قومی سلامتی روبرٹ اوبرائن نے جوائنٹ اسٹاف کمیٹی کے سربراہ کو اپنے اس قول سے حیران کر ڈالا تھا کہ صدر (ٹرمپ) اعلی سطح کے ایک ایرانی فوجی افسر کو قتل کرانا چاہتے ہیں جو اسلامی جمہوریہ کے بیرون کام کر رہا ہے۔

ٹرمپ کے دور میں وزیر دفاع کے منصب پر فائز مارک ایسپر نے اپنی نئی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ "یہ واقعتا ایک برا خیال تھا جو انتہائی بھیانک نتائج کا حامل تھا"۔

برطانوی اخبار "دی گارڈیئن" کے مطابق اپنی کتاب کے ایک حصے میں ایسپر نے خود کو معاونین کے اس مجموعے میں شامل ایک فرد کے طور پر پیش کیا جنہوں نے ٹرمپ کی جانب سے تجویز کردہ برے یا غیر قانونی خیالات کی مزاحمت کی۔ ان تجاویز میں ایرانی افسر کو نشانہ بنانا شامل تھا۔

ایسپر کے مطابق زیر بحث آنے والے دیگر خیالات میں میکسیکو میں منشیات کی تجربہ گاہیں تباہ کرنے کے لیے میزائلوں کا داغا جانا اور امریکا کی جنوبی سرحد کی سمت 2.5 لاکھ فوجیوں کو بھیجنا شامل تھا۔

جنوری 2020ء میں ایران کی القدس فورس کا سربراہ قاسم سلیمانی بغداد میں ہلاک کر دیا گیا۔

جولائی 2020ء میں ایسپر نے لکھا کہ "اوبرائن نے یورینیم کی افزودگی کے سبب ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی تجویز پیش کی"۔ ایسپر کے مطابق وائٹ ہاؤس کے اسٹاف کے چیف مارک میڈوز نے فوری طور پر اس تجویز کی مخالفت کی۔

اس حوالے سے اندیشوں کا سلسلہ جاری رہا کہ ٹرمپ اپنی مدت صدارت کے پورے عرصے اریان کے ساتھ جنگ چھیڑ سکتے ہیں۔ سال 2020ء کے انتخابات قریب آنے کے ساتھ ہی ان اندیشوں نے شدت اختیار کر لی۔

اوبرائن کی جانب سے ایرانی افسر کے خلاف حملے کی صورت میں ایسپر نے لٓکھا کہ انہوں نے روبرٹ روبرٹ میلی کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ ٹرمپ کی جانب سے کسی تحریری حکم کے بغیر کچھ نہیں کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں