روس اور یوکرین

یوکرین پرروس کی فوجی چڑھائی کے بعد مراکزِصحت پر200 حملوں کی تصدیق

امن ایک ایسی ایک دوا جو عالمی ادارہ صحت فراہم نہیں کرسکتا،یوکرین کواس کی اشد ضرورت ہے:ڈائریکٹرجنرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ڈائریکٹر جنرل تیدروس ادھانوم غیبریوسس نے کہا ہے کہ 24 فروری کو روسی حملے کے آغاز سے اب تک یوکرین میں صحت کی دیکھ بھال کے مراکز پرقریباً 200 حملے کیے جا چکے ہیں۔

انھوں نے یوکرین کے دورے کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے صحت کے ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کودیکھا ہے اور صحت کے کارکنوں کو پہنچنے والے جسمانی اور ذہنی نقصان کے احوال سنے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا بنیادی محرک صحت اور زندگی کا تحفظ ہے‘‘۔

انھوں نےمزید کہا کہ ’’صحت کی دیکھ بھال کا نظام کبھی بھی ہدف نہیں ہوتا۔جنگ شروع ہونے کے بعد ڈبلیوایچ او نے یوکرین میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر 200 حملوں کی تصدیق کی ہے۔ ان حملوں کوروکنا ہوگا‘‘۔

ڈائریکٹرجنرل نے یوکرینی عوام کے ضبط وتحمل کی تعریف کی اور جنگ زدہ علاقے میں پرورش پانے کے اپنے ذاتی تجربے کوبیان کیا۔انھوں نے کہا کہ ’’یہاں گزرے وقت نے مجھے ذاتی طور پربہت متاثر کیا ہے۔ میں خود ایک جنگ زدہ علاقے میں پلابڑھا ہوں، میں صرف یہ اچھی طرح سمجھتا ہوں کہ یوکرین کے لوگ کس طرح محسوس کرتے ہیں-خاندان اور دوستوں کے لیے پریشانی، خوف، نقصان کا احساس وغیرہ۔ کیونکہ میں اس کے اثرات کو جانتا ہوں، میں جنگ کی تباہی کو براہ راست جانتا ہوں۔جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا تومجھے بہت دکھ ہوا کیونکہ میں کسی جنگ کے نتیجے میں ہونے والے اثرات اور تباہی کو جانتا تھا‘‘۔

تاہم ، انھوں نے کہا:’’میں نے یوکرینیوں میں غیرمعمولی لچک دیکھی ہے- وہ لوگ،جنھوں نے نقصان اور تباہی کا سامنا کیا ہے لیکن ہارنہیں مانی ہے۔ انھوں نے اپنی زندگیوں میں ایک گہرا سوراخ کرنے والی تباہی کوروکنے کے لیے ضروری خدمات کی دیکھ بھال جاری رکھی ہے‘‘۔

24 فروری کو یوکرین پرروس کے حملے کے بعد سے اقوام متحدہ کی تنظیم نے 15,000 سرجریوں کو آسان بنانے میں مدد کی ہے۔وہ ہنگامی طبی امداد مہیا کررہی ہے اور 650,000 ضرورت مند افراد کوخدمات مہیا کرنے کی غرض سے ضروری ادویہ اور صحت کی دیکھ بھال کے آلات مہیا کر رہی ہے۔

تیدروس ادھانوم نے وضاحت کی کہ گذشتہ چند ماہ کے دوران میں ڈبلیو ایچ او نے یوکرین میں فعال کردارادا کیا ہے۔یوکرین اورہمسایہ ممالک میں 50 سے زیادہ ہنگامی طبی ٹیموں کو مربوط کیا ہے جو اس تنازع سے فرار ہونے والے پناہ گزینوں کی میزبانی کررہے ہیں اورانھوں نے ہنگامی حالات میں طبی امداد مہیا کرنے کے طریقوں کی تربیت دی گئی ہے۔

انھوں نے جنگ زدہ ملک کی صحت کی ضروریات میں معاونت پر تنظیم کے عملہ کی بھی تعریف کی۔انھوں نے کہا کہ ’’یوکرین میں ہماری ٹیم جنگ سے قبل صحت کا ایک مضبوط نظام قائم کرنے کے لیے سخت محنت کر رہی تھی اور یہ کام جاری رہے گا‘‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ایک دوا ایسی ہے جو ڈبلیو ایچ او فراہم نہیں کرسکتا اور جس کی یوکرین کو کسی بھی دوسرے ملک سے زیادہ اشد ضرورت ہے اور وہ ہے امن۔ چناں چہ ہم روسی فیڈریشن سے اس جنگ کو روکنے کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں