اسرائیل نے حماس کے بیرون ملک رہ نماؤں کے قتل کی تیاری سے آگاہ کر دیا: رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل نے اپنے حلیفوں کا آگاہ کر دیا ہے کہ وہ حماس تنظیم کے بیرون ملک مقیم رہ نماؤں کو نشانہ بنانے کے لیے ٹیمیں تیار کر رہا ہے۔ یہ اقدام مارچ کے وسط سے ہونے والے ان حملوں کے انتقام کے سلسلے میں ہے جن میں 19 اسرائیلی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس حوالے سے تازہ ترین واقعہ جمعرات کی شب اسرائیلی قصبے العاد میں پیش آیا۔ یہاں کلہاڑیوں سے حملہ کر کے 3 افراد کو ہلاک اور 7 کو زخمی کر دیا گیا تھا۔

برطانوی اخبار دی ٹائمز کے مطابق اسرائیل کی جانب سے حماس کی قیادت اور اہم ارکان کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ ان میں بعض شخصیات عرب ممالک میں مقیم ہیں۔ ان میں 55 سالہ صالح العاروری شامل ہے۔ العاروری پر الزام ہے کہ وہ مغربی کنارے میں خفیہ عسکری نیٹ ورک چلا رہا ہے۔ اس کے علاوہ زاہر جبارین ہے جو ان نیٹ ورک کی فنڈنگ کا ذمے دار ہے۔

اخبار نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ حماس تنظیم کو انتباہات موصول ہوئے ہیں کہ یورپ اور مشرق وسطی میں اس کے بعض رہ نماؤں کو جلد نشانہ بنایا جائے گا۔

اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ گذشتہ روز اعلان کر چکے ہیں کہ ان کا ملک دہشت گردی کے خلاف ایک نئے مرحلے کی دہلیز پر ہے۔ بینیٹ نے "سول نیشنل گارڈز" تشکیل دینے کی ہدایت جاری کی ہے۔ یہ فورس سرحدی پہرے داروں ، ریزرو فوجیوں اور ہتھیاروں کی تربیت رکھنے والے رضا کاروں پر مشتمل ہو گی۔

دوسری جانب حماس تنظیم کے نمائندوں نے العاد میں کلہاڑی کے ذریعے کی گئی کارروائی کو سراہتے ہوئے اسے دلیرانہ قرار دیا۔ تاہم انہوں نے تنظیم کی جانب سے اس کارروائی کی ذمے داری قبول نہیں کی۔

اس سے قبل اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد یا اس کے مجاز عناصر کئی فلسطینی شخصیات اور ذمے داران کو ہلاک کر چکے ہیں۔ ان میں دبئی میں 19 جنوری 2010ء کو ہتھیاروں کے مشہور خریدار محمود المبحوح ، تونس میں 15 دسمبر 2016ء کو ڈرون طیاروں کا تونسی ماہر محمد الزواری اور ملائیشیا میں 21 اپریل 2018ء کو راکٹوں کا انجینئر فادی البطش شامل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں