روس اور یوکرین

پوتین کامؤقف’جنگ جیسا‘،روس یا یوکرین کی ’'تذلیل‘کے ذریعے امن ممکن نہیں:ماکرون

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

فرانس کے صدرعمانوایل ماکرون نے کہا ہے کہ روسی صدر ولادی میرپوتین کی یومِ فتح کی تقریر’’طاقت، دھمکی اور جنگ جیسے مؤقف‘‘ کا مظاہرہ ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا ہے کہ روس یا یوکرین کی ’’تذلیل‘‘کے ذریعے امن مذاکرات کامیاب نہیں ہو سکتے۔

وہ پیرکو روسی صدر ولادی میرپوتین کے ماسکو میں یوم فتح کے موقع فوجی پریڈ سے خطاب پر اپنے ردعمل کا اظہارکررہے تھے۔ماکرون نے یورپی پارلیمان میں اپنی تقریرمیں کہا کہ ’’میں سمجھتا ہوں کہ ہم (یورپی یونین اور روس) نے 9 مئی کے دو بہت مختلف تصورات پیش کیے ہیں۔ایک طرف طاقت کا مظاہرہ کرنے، ڈرانے،دھمکانے اور جنگ جیسے مؤقف کی خواہش تھی۔میں کبھی بھی تبصرے میں نہیں جاتا لیکن صدر پوتین نے ایک جنگی مؤقف پیش کیا ہے‘‘۔

تاہم فرانسیسی صدر نےکہا:’’مستقبل میں ہمیں امن قائم کرنا ہوگا، ہمیں اسے کبھی نہیں بھولنا چاہیے۔پہلےہمیں یہ کام یوکرین اورروس دونوں کے ساتھ کرنا ہوگا۔وہ میز کے ارد گرد بیٹھیں۔اس بات چیت کی شرائط یوکرین اور روس ہی کو طے کرنا ہوں گی‘‘۔

انھوں نے بالاصرار کہاکہ ’’یورپ اپنے ماضی سے سبق سیکھے۔امن ان میں سے کسی ایک یا دوسرے کو نظرانداز کرنے یا خارج کرنے یا کسی کی تذلیل سے نہیں ہوگا۔ کیونکہ ہمارا یورپ 1945ء کے بعد (دوسری جنگ عظیم کے خاتمے) کے وعدے کو پورا نہیں کرسکا جبکہ 1914ء کے بعد 1918ء میں پہلی جنگ کے خاتمے پرہمیں سبکی کا سامنا کرنا پڑاتھا۔ لہٰذا ہمیں اس (امن)کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے‘‘۔

قبل ازیں روسی صدرولادی میرپوتین نے یوم فتح کے موقع پر اپنی تقریر میں یوکرین پر فوجی چڑھائی کا ایک نیاجواز پیش کیا اورکہا کہ ’’روس کی پڑوسی ملک میں فوجی مداخلت ناگزیر ہوگئی تھی کیونکہ مغرب کریمیا سمیت ہماری سرزمین پر حملے کی تیاری کر رہاتھا‘‘۔

نازی جرمنی کے خلاف دوسری عالمی جنگ میں فتح کی 77ویں سالگرہ کے موقع پر ماسکو کے ریڈ اسکوائرمیں فوجی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے صدر پوتین نے روس کو کمزوراور تقسیم کرنے کے بیرونی خطرات کی مذمت کی اور بارباران معروف دلائل کا ذکرکیا جوانھوں نے یوکرین پرروسی فوج کے حملے کا جواز پیش کرنے کے لیے استعمال کیے تھے کہ نیٹو اتحاداپنی سرحدوں کے متصل خطرات پیدا کررہا تھا۔

۔انھوں نے دوسری جنگ عظیم میں سوویت بہادری کا تذکرہ کیا اوراپنی فوج پر زوردیا کہ وہ یوکرین میں فتح حاصل کرے۔انھوں نے یوکرین کے مشرقی علاقے ڈونبس میں لڑنے والے فوجیوں کو بھی براہ راست مخاطب کیا۔روس نے اس علاقے کو یوکرین سے’’آزاد‘‘ کرانے کا وعدہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’جب مادرِوطن کی قسمت کا فیصلہ کیا جا رہا ہے تو اس کا دفاع ہمیشہ ہمارے لیے مقدس رہا ہے۔آج آپ ہمارے لیے لڑرہے ہیں۔ڈونبس میں لوگ، روس کی سلامتی کے لیے، ہمارے وطن کے لیے لڑرہے ہیں‘‘۔

انھوں نے اپنی تقریر کا اختتام وہاں موجود فوجیوں کے ساتھ ایک بلند آواز نعرے سے کیا اور روس زندہ باد کا نعرہ بلند کیا۔یوکرین پرروسی فوج کے حملے کے75ویں دن صدرپوتین نے11 منٹ کی تقریرمیں جنگ میں پیش رفت کا کوئی اندازہ نہیں لگایا اوراس بات کا کوئی اشارہ نہیں دیا کہ یہ جنگ کب تک جاری رہے گی۔

انھوں نے باربار اس جنگ کو نازی جرمنوں کے خلاف جنگ سے تشبیہ دی ہے۔انھوں نے یوکرین میں خطرناک ’’نازی ازم‘‘ سے متاثرقوم پرستوں کے خلاف کارروائی کو اس جنگ کے وجۂ جواز کے طورپر پیش کیا ہے۔یادرہے کہ 1941ء میں نازی جرمنی کے لیڈر ایڈولف ہٹلر کے حملے کے وقت بھی سوویت یونین کو اسی طرح کا چیلنج درپیش تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں