تونسی صدر کا لوٹی گئی 5 ارب ڈالر کی دولت واپس لانے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

تونس کے صدر قیس سعید نے وزیر انصاف لیلی جعفر کو بدعنوانی کے مقدمات میں ملوث تاجروں کے ساتھ تصفیہ اور مفاہمت کے لیے کمیشن بنانے کا کام سونپا۔

یہ بات قرطاج محل میں وزیر انصاف کے پر مسرت استقبال کے دوران سامنے آئی۔

ذرائع کے مطابق صدر سعید نے وزیر انصاف کو تعزیری مصالحت سے متعلق کمیشن قائم کرنے کا حکم دیا جوتصفیہ اور مفاہمت کے حوالے سے سفارشات مرتب کرے گا تاکہ کم سے کم وقت میں لوٹی گئی رقوم واپس لا کر عوام کو ان کا چھینا حق دیا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عدلیہ کو اس سطح پر ہونا چاہیے جسے وہ تاریخی مرحلہ سمجھتے ہیں۔ قانون کا اطلاق ہرایک پرہونا چاہیے۔

صدرنے مطالبہ کیا کہ ججز قانون کا اطلاق کریں اور عبوری سپریم جوڈیشل کونسل ان لوگوں کو احتساب کرکے انہیں کٹہرے میں لانے کے لیے اپنا مکمل کردار اور ذمہ داری ادا کرے۔

لوٹی گئی 5 ارب ڈالر دولت

قابل ذکر ہے کہ تونس کے صدر نے گذشتہ 28 جولائی کو انکشاف کیا تھا کہ ملک سے لوٹی گئی رقم کی مالیت کا تخمینہ 13.5 ارب دینار ہے، جو کہ تقریباً 5 ارب امریکی ڈالر کے برابر ہے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ اسے تعزیری تصفیے کے بدلے واپس کیا جانا چاہیے اور لوٹ مار کرنے والے کاروباری لوگوں کو حساب دینا چاہیے۔

تونس نے اس وقت واضح کیا کہ رشوت ستانی اور بدعنوانی سے متعلق قومی تحقیقاتی کمیشن کی جانب سے نام لیے بغیر جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ملک کا پیسہ لوٹنے والوں کی تعداد 460 ہے۔

سرکاری گزٹ میں شائع ہونے والے صدارتی فرمان کے مطابق 22 مارچ کو تونس نے ایک تعزیری مفاہمت اپنانے کا اعلان کیا جو کہ بدعنوانی کے معاملات میں معاشی اور مالی جرائم سے متعلق کسی بھی تصفیے کو رقم کی وصولی کے بدلے میں لے سکتا ہے۔

اعلان کردہ فیصلے میں 460 تاجروں کے تصفیہ اور معافی کی پیشکش کی گئی ہے جو بدعنوانی کے الزامات ختم کرنے کے عوض قومی حکومت کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کےلیے تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں