دس لاکھ شامیوں کو ان کے ملک واپس بھیجیں گے: طیب ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ وہ ترکی میں موجود دس لاکھ شامی پناہ گزینوں کو واپس بھیجیں گے۔

ترک صدر کی طرف سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف ترکی میں مختلف سیاسی حلقوں میں شامی پناہ گزینوں کا معاملہ پہلے ہی زیربحث ہے۔ ترکی میں بلدیاتی انتخابات کے قریب آنے پر اس بحث نے مزید زور پکڑا ہے۔

پیر کو انقرہ میں صدارتی کمپلیکس میں حکومتی اجلاس کی صدارت کے بعد قوم کے نام اپنے پیغام میں ترک صدر نے ایک ایسے منصوبے کا انکشاف کیا جو امدادی تنظیموں کے تعاون سے شام میں انفراسٹرکچر اور گھروں کی تعمیر پر کام کررہا ہے تاکہ شامی پناہ گزینوں کو ان کے ملک واپس بھجا جا سکے۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ترکی میں دس لاکھ شامی ہیں جو رضاکارانہ طور پر واپس جانے کے لیے تیار ہیں۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی جب ملک میں پناہ گزینوں کی موجودگی کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ ترکی میں شامی پناہ گزینوں کی موجودگی ملک پر معاشی بوجھ ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی مسائل کا بھی باعث بن رہے ہیں۔

ترک صدر نے کہا کہ جب بھی رضاکارانہ واپسی کے لیے ضروری اقدامات پورے ہوگئے تو تُرکی میں شامی پناہ گزینوں کی تعداد مناسب سطح تک کم کر دی جائے گی۔

انہوں نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ 2016 سے اب تک ترکی سے اپنے ملک واپس آنے والے غیر قانونی تارکین کی تعداد 320,000 سے تجاوز کر گئی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ترک اپوزیشن کی جماعتیں برسوں سے لاکھوں شامی پناہ گزینوں کی اپنے ملک واپسی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

گذشتہ اپریل میں ترک حکام نے شامی پناہ گزینوں کو عید الفطر کے موقع پر اپنے رشتہ داروں سے ملنے کے لیے سرحد پار کرنے سے روک دیا تھا۔

انہوں نے حکمران جماعت کی اتحادی تُرک نیشنلسٹ پارٹی سے بھی اپیل کی وہ شامی جو اپنے ملک میں عید منانے گئے ہیں،انہیں ترکی واپس جانے کی اجازت نہ دیں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے مہاجرین کے مطابق، ترکی تقریباً 3.6 ملین رجسٹرڈ شامی مہاجرین تین لاکھ بیس ہزار سے زیادہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں