.

سعودی عرب :العلاء میں صرف 2021 میں ایک لاکھ 46 ہزار سے زیادہ سیاحوں کی آمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے قدیم تاریخی شہرالعلاء میں2021 میں ایک لاکھ 46 ہزارسے زیادہ زائرین کی آمد ہوئی تھی۔ العلاء کے شاہی کمیشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر برائے مارکیٹنگ میلانی ڈی سوزا نے دبئی میں منعقدہ عرب ٹریول مارکیٹ نمائش کے موقع پرالعربیہ کو بتایا کہ گذشتہ سال اتنی زیادہ تعداد میں سیاحوں کی آمد ہمارے اہداف سے بڑھ کر تھی۔ ہمیں یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ لوگوں نے ہمارے ثقافتی ورثے کی سیر میں گہری دل چسپی کا اظہار کیا ہے۔

ڈی سوزا نے کہا کہ وہ شہر میں ایئرلائن اور ہوٹلوں کی گنجائش میں اضافے کے مطابق 2022ء میں مزید سیاحوں کی آمد کی توقع کرتی ہیں۔العلاء کو جب سے اکتوبر2020 میں سال بھرکی سیاحت کے لیے کھولا گیا ہے،ہمارے ٹورآپریٹرز اورمیڈیا کے شراکت داروں نے بھی اس میں گہری دل چسپی کا اظہار کیا ہے۔

العلاءدولاکھ سال سے زیادہ قدیم ہے۔ یہ تاریخی شہر خطے میں نئے اہم سیاحتی مقامات میں سے ایک کے طور پر ابھر رہا ہے اوردنیا بھر سے سیاحوں کو اپنی طرف راغب کر رہا ہے۔شہر کے لیے پروازوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔ کمیشن نے اس مقصد کے لیے مختلف مقامی اور بین الاقوامی فضائی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری قائم کی ہے۔

اس کے علاوہ شاہی کمیشن نے ’’العلاء لمحات‘‘کے عنوان سے اس قیم شہر میں پہلے رنگارنگ میلے کی میزبانی کی۔اس میں آرٹ اور ثقافت سے لے کر کھیلوں تک وسیع پیمانے پر مختلف پروگرام پیش کیے گئے تھے۔

ڈی سوزا نے کہا کہ سعودی مملکت کے شمال کے بارے میں دنیا زیادہ نہیں جانتی اور جو انسانیت کے بارے میں جو کچھ جانتے ہیں،اس کی نئی تعریف کر رہی ہیں۔العلاء ایک بھرپور ثقافتی ورثے کی جگہ ہے اور یہ یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ حجرہ کا گھر ہے۔یہ تاریخی سنگی عمارات ، نخلستان اور کھجور کے درختوں کے ساتھ ’’شاندار مناظر‘‘ پیش کرتا ہے۔

مستقبل کے منصوبے

شہر کے مستقبل کے منصوبوں کے بارے میں پوچھے جانے پر انھوں نے کہا کہ رائل کمیشن جلد ہی العلاء لمحات 2023 کا کیلنڈرجاری کرے گا۔اس کی بنیاد ان چارتیوہاروں کے لحاظ سے انہی موضوعات پرمبنی ہو گی جو گذشتہ سال ہمارے میلے کے موضوع تھے:آسمان، تندرستی، تنتورہ میں سرما اور العلاء آرٹس فیسٹیول۔

میلانی ڈی سوزا۔
میلانی ڈی سوزا۔

انھوں نے بتایاکہ ہم جلد ہی رواں سال اکتوبر میں ’’برگد درخت ہوٹل‘‘ کا افتتاح کریں گے جس میں ایک گھاٹی میں خیمے دار رہائش اور ولا کے ساتھ ساتھ قدیم شہر میں 30 کمروں کا ایک ریزارٹ بھی شامل ہے۔یہ مٹی کی اینٹوں والا گاؤں ہے جومسلسل اور اس سے پہلے 900 سال تک موجود رہا تھا اور حال ہی میں 40 سال پہلے تک بھی موجود تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’’سعودی عرب میں سیاحتی مقامات کو اجاگر کرنے کے لیے بھرپورکوششیں کی جا رہی ہیں۔ العلاء سعودی عرب میں سیاحت کی پیش کش کا تاج ہے۔ یہ مملکت کے شمال مغرب میں واقع ہے اور ہم واقعی واحد گیگا منصوبہ ہیں جوسال بھر میں مختلف سرگرمیوں کی پیش کش کرتا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں