.

سعودی عرب:بحیرہ احمرسیاحتی منصوبہ 2023ء میں زائرین کے لیے کھول دیا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں بحیرہ احمرکا سیاحتی منصوبہ 2023 کے اوائل میں زائرین کے لیے کھول دیا جائے گا۔

یہ بات اس منصوبہ کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ عبداللہ الزہرانی نے منگل کے روزدبئی میں منعقدہ عرب ٹریول مارکیٹ کانفرنس کے موقع پرالعربیہ سے ایک انٹرویو میں بتائی ہے۔انھوں نے اس کانفرنس میں کہا کہ 28 ہزار مربع کلومیٹر پرمحیط اس سیاحتی میگاپروجیکٹ میں 2023 کے آخرمیں مسافروں کے لیےایک وقف ہوائی اڈا بھی کھول دیا جائے گا۔

الزہرانی نے کہا کہ اس سے زائرین کومذہبی مقامات سے ماورا ملک کی دیگر جہتوں کی تلاش کا موقع ملے گا۔

سعودی حکومت بحیرہ احمر کا منصوبہ عام غیرملکی اور ملکی سیاحوں اور زائرین کے لیے مکمل کررہی ہے۔اس کے برعکس ہرسال اسلام کے دو مقدس شہروں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں لاکھوں زائرین حج ،عمرے اورروضہ رسول ﷺ اورمسجد نبوی ﷺ کی زیارت کے لیے آتے ہیں۔

عبداللہ الزہرانی نے کہا کہ اگرچہ سمندر کے کنارے واقع ریزارٹس میں’’سمندر، ریت اورسورج‘‘کی نمائش کی جائے گی جواکثر مملکت سے وابستہ نہیں ہوتا لیکن یہ سعودی عرب کے ثقافتی ورثے سے جدانہیں ہوگا۔

انھوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب اسلامی دنیا کا دل ہے اور یہ اسلامی دنیا کے علاوہ عرب دنیا کا دل بھی رہے گا۔

2024ء کے آخر تک اس کثیرالجہت منصوبے میں 16 الگ الگ ریزارٹس تعمیرکیے جائیں گے۔ان کے 3000 کمرے ہوں گے۔ان میں دو زمین پر اور 14 ساحل سمندر پر ہوں گے۔2030ء میں جب اس منصوبے کی تعمیر کا دوسرا مرحلہ مکمل ہوگا تو 22 مختلف ریزارٹس میں 8000 کمرے ہوں گے۔

الزہرانی نےکہا کہ ہم معیاری سیاحتی منزلیں متعارف کرا رہے ہیں جوسیاحتی مقامات کی سیرکو آنے والے اورایک نئے علاقے کی تلاش کرنے والے لوگوں کی ذہنیت اور طرز زندگی کو تبدیل کرنے والی ہیں۔

سعودی عرب نے حالیہ برسوں میں سیاحوں کو ایک ایسے ملک کی طرف راغب کرنے کے لیے پیش قدمی کی ہے جو روایتی طور پر بیرون ملک سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لیے بند تھا۔ان میں 2019 میں سیاحوں کا ای ویزا متعارف کرانا بھی شامل ہے۔اس کے تحت مسافر فارم بھرنے اور 128 ڈالر (480 ریال) فیس ادا کرنے کے بعد 90 دن تک سعودی عرب میں رہ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے2017 میں بحیرہ احمر کے سیاحتی منصوبے کا اعلان کیا تھا اور اس کو فوسل ایندھن کی آمدن کے علاوہ ملکی معیشت کو متنوع بنانے کے وسیع وژن 2030 کے حصے کے طور پر متعارف کرایا گیا تھا۔یہ ان کے اعلان کردہ متعدد سیاحتی منصوبوں میں سے ایک تھا۔ان میں نیوم میگاسٹی اور دارالحکومت الریاض میں درعیہ گیٹ کی ترقی کا منصوبہ بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں