قطر اورجرمنی کے درمیان ایل این جی کے سپلائی معاہدے پر مذاکرات میں اختلافات برقرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

جرمنی اور قطر کے درمیان طویل مدتی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی سپلائی کے معاہدے پر بات چیت میں دونوں فریقوں کومشکلات کا سامنا ہے اور ان کے درمیان اختلافی امور طے نہیں کیے جاسکے۔ بعض

جرمنی 2040 تک اپنے کاربن کے اخراج میں 88 فی صد کمی کرنا چاہتاہے اور وہ روس سے درآمدہ گیس پر انحصار کم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پرایل این جی کی خریداری کے معاہدوں کو محفوظ بنانا چاہتا ہے۔ وہ اس ضمن میں کم سے کم 20 سال کے لیے معاہدے طے کرنا چاہتا ہے مگر ان پر قطر کی شرائط کے مطابق دست خط کرنے سے گریزاں ہے۔

قطر اس وقت دنیا میں ایل این جی کا سب سے بڑا برآمدکنندہ ملک ہے۔ وہ جرمنی سے معاہدے میں منزل کی شق جیسی شرائط کا تعیّن کررہا ہے۔یہ شرط برلن کو یورپ کے دیگر علاقوں میں قطری گیس کی آگے ترسیل سے روک دے گی جبکہ یورپی یونین بھی اس شرط کی مخالفت کررہی ہے۔

قطرانرجی اور جرمن کمپنیوں کے درمیان سخت مذاکرات یورپی یونین کوروسی گیس سے دورکرنے اور گیس کے وسائل کو متنوع بنانے کے عزائم میں درپیش چیلنجوں کو اجاگر کرتے ہیں جبکہ جرمن حکومت کاربن کے اخراج میں کمی کے اہداف کے ساتھ کسی بھی معاہدے کومتوازن کرنے کے لیے جدوجہد کر رہی ہے۔

جرمنی اس وقت سالانہ قریباً 100 ارب مکعب میٹر (بی سی ایم) قدرتی گیس استعمال کرتا ہے۔اس کا قریباً 55 فی صد روس سے درآمد کرتا ہے اور باقی مقدار نیدرلینڈزاور ناروے سے پائپوں کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔

اس نے دو ایل این جی ٹرمینلز کی تعمیر کی معاونت کی ہے اور اسٹاپ گیپ پیمائش کے طور پر چار فلوٹنگ سٹوریج اور ری گیسی فیکیشن یونٹس (ایف ایس آر یو) کرائے پر حاصل کیے ہیں۔

جرمنی قطر سے ایل این جی کی خرید کے لیے دیگر ممالک کے ساتھ بھی مقابلہ کررہا ہے۔قطر کے سرکاری مواصلاتی دفتر نے جرمنی کے ساتھ جاری مذاکرات پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے جبکہ جرمنی کے وزیرمعیشت بھی فوری طور پر تبصرے کے لیے دستیاب نہیں تھے۔

انرجی انٹیلی جنس فرم وورٹیکا میں ایل این جی کے سربراہ فیلکس بوتھ کا کہنا ہے کہ قطر مذاکرات میں تیل کی انڈیکسیشن پر بھی قائم ہے جو معاہدوں کو تیل کی قیمت سے جوڑتا ہے۔یہ ایشیا میں ان کی متبادل فروخت کے قیمتوں کے ڈھانچے کی نمائندگی کرتا ہے جبکہ جرمن اس معاہدے کو ڈچ ٹی ٹی ایف بنچ مارک سے مربوط کرنے کے خواہاں ہیں۔

بوتھ کا کہنا ہے کہ قطرکو جرمنی کے ساتھ مذاکرات میں بالاتر حیثیت حاصل ہے کیونکہ اس کی ایک قابل اعتماد سپلائر کے طور پر ایک طویل تاریخ ہے۔انھوں نے واضح کیا کہ قطر سے مائع قدرتی گیس کی سپلائی کو محفوظ بنانے کے لیے توقع کی جاتی ہے کہ جرمن ٹیم کو تیل سے منسلک قیمتوں کے روایتی ڈھانچے کو قبول کرنے کی ضرورت ہوگی۔

واضح رہے کہ جرمن وزیرمعیشت رابرٹ ہیبیک نے مارچ میں جرمن کمپنیوں آر ڈبلیو ای اور یونیپر کے حکام کے ساتھ قطر کا دورہ کیا تھا۔انھوں نے قطری حکام سے ایل این جی کے اضافی حجم کی خریداری پر تبادلہ خیال کیا تھا لیکن ابھی تک کسی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا ہے۔

جرمنی کے بجلی پیدا کرنے والے سب سے بڑے ادارے آر ڈبلیو ای نے 2016 میں قطرانرجی کے یونٹ ’قطرگیس‘ کے ساتھ معاہدہ کیا تھا۔اس کے تحت 2023 کے آخر تک سالانہ 11 لاکھ ٹن تک مائع قدرتی گیس شمال مغربی یورپ کو پہنچائی جائے گی۔

ذرائع کاکہنا ہے کہ قطرکے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی مئی کے دوسرے پندرھواڑے میں جرمنی کا دورہ کریں گے۔اس موقع پر دونوں ملکوں کے درمیان شراکت داری کے معاہدے پر دست خط متوقع ہیں۔تاہم اس کا مطلب یہ نہیں کہ تب تک طویل مدتی ایل این جی معاہدے مکمل ہوجائیں گے کیونکہ اس شراکت داری کا مقصد جرمنی کو طویل مدت کے لیےقطر سےایل این جی کی ترسیل میں نمایاں اضافہ کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔

یادرہے کہ قطر کے خود مختار دولت فنڈ (کیو آئی اے) نے جرمنی میں قریباً 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررکھی ہے۔اس میں کارساز ووکس ویگن اور ڈوئچے بینک میں سرمایہ کاری بھی شامل ہے۔جرمنی کو قطر کے ساتھ ممکنہ دو طرفہ شراکت داری کی امید ہے۔اس کے تحت جرمن کمپنیاں جیسے سیمنزانرجی اور دیگر دوحہ کو گذشتہ سال کے آخر میں شروع کیے گئے پائیداری منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کی کوششوں میں مدد دے سکتی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں