.

کیا "بیئر گیٹ" اسکینڈل برطانوی لیبر پارٹی کے سربراہ کو گھر بھیج دے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں حزب اختلاف کے سربراہ کیئر اسٹارمر کا کہنا ہے کہ اگر ان پر کرونا لاک ڈاؤن قوانین کی خلاف ورزی کے حوالے سے جرمانہ عائد کیا گیا تو وہ مستعفی ہو جائیں گے۔

لیبر پارٹی کے رہ نما نے پیر کے روز اخباری بیان میں کہا کہ "میں پوری وضاحت کے ساتھ باور کرا رہا ہوں کہ کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوئی ... تاہم اگر پولیس نے مجھ پر جرمانہ عائد کیا تو یقینا میں مستعفی ہو جاؤں گا"۔

کیئر اسٹارمر نے گذشتہ ہفتوں میں وزیر اعظم بورس جونسن پر مستعفی ہونے کے لیے زور دیا تھا اور اب وہ خود پولیس کی تحقیقات کا ہدف بن چکے ہیں۔

بیئر گیٹ اسکینڈل کے سبب جنم لینے والے تنازع کا تعلق اپریل 2021ء سے ہے جب لیبر پارٹی کے سربراہ کیئر اسٹارمر اپنی انتخابی مہم انجام دے رہے تھے۔ اس دوران میں اِن ڈور اجتماعات پر پابندی تھی تاہم کیئر اسٹارمر نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنی ٹیم کے لیے کھانا منگوایا تھا جس نے پارٹی ہیڈ کوارٹر میں شام کے وقت ان سے ملاقات کی تھی۔ اسٹامر کے مطابق یہ بند ریستورانوں کا واحد متبادل تھا۔

اس ملاقات کے حوالے سے تحقیقات کے آغاز نے اسٹارمر کو مشکل میں ڈال دیا۔ اس سے پہلے وہ "پارٹی گیٹ" اسکینڈل کے سبب وزیر اعظم بورس جونسن سے بارہا مستعفی ہونے کا مطالبہ کر چکے تھے۔

بورس جونسن نے 19 جون 2020ء کو اپنی 56 ویں سال گرہ کے موقع پر ایک تقریب میں مختصر دورانیے کے لیے شرکت کی تھی۔ اس پر جونسن کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں