.

ایل سلواڈور کے فلسطینی نژاد صدر کا دنیا میں اپنی نوعیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایل سلواڈور کے فلسطینی نژاد صدر نجیب بوقیلہ نے اپنی نوعیت کا ایک منفرد ماڈل سٹی بنانے کا فیصلہ کیا ہے جس کی مثال اس سے قبل نہیں ملتی۔ شہر کا نامBitcoin City ہو گا۔ شہر میں ایک بڑا مرکزی میدان ہو گا جس کے وسط میں اس کثیر ترین گردش میں رہنے والی کرپٹو کرنسی کا ضخیم حم کا لوگو نصب ہو گا۔ اس شہر کو آتش فشاں کی زمین سے خارج ہونے والی حرارت کے ذریعے چلایا جائے گا۔ یہ دنیا بھر میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کے لیے مختص پہلا مرکز ہو گا"۔

نجیب بوقیلہ نے مذکورہ شہر کا منصوبہ گذشتہ روز منگل کو جائزے کے لیے پیش کیا۔ شہر میں قائم کیا جانے والا ہوائی اڈا بھی بِٹ کوائن کی شکل کا ہو گا۔ توقع ہے کہ اس شہر پر اربوں ڈالر کی لاگت آئے گی۔

یہ منصوبہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جبBitcoin کرنسی مندی کا شکار ہو رہی ہے۔ یہاں تک کہ گذشتہ ہفتے کے دوران میں وہ اپنی نصف قیمت کھو دینے کے قریب پہنچ گئی تھی۔ ایل سلواڈار دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں بٹ کوائن کی صورت میں قانونی ٹینڈر پیش کرنے کی اجازت ہے۔ اس اقدام نے آئی ایم ایف کو مجبور کر دیا کہ وہ اس ملک کو مذکورہ کرنسی کے اتار چڑھاو سے خبردار کر دے۔ البتہ 40 سالہ صدر نجیب بوقیلہ نے ملک کی ڈگمگاتی معیشت کو مزید خطرے میں ڈال دیا ہے۔

ایک عرصہ قبل امریکی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوںFitch اور Moody’s نے ایل سلواڈور کی کریڈٹ ریٹنگ نچلے ترین درجے پر کر دی تھی۔ ایل سلواڈور کو آئندہ جنوری میں 80 کروڑ ڈالر کا قرضہ چکانا ہے۔ اس قرضے کی بنیادی وجہ صدر نجیب بوقیلہ کا بٹ کوائن میں لین دین کرنا ہے۔ ان کو اس کرنسی کے اکٹھا کرنے کی اس طرح لت پڑ چکی ہے جیسے لوگ ڈاک ٹکٹ جمع کرتے ہیں۔

ایل سلواڈور کے پاس اس وقت 2301 بٹ کوائن موجود ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں