.

بائیڈن انتظامیہ ترکی کو چھوٹے ہتھیاروں کی فروخت کے لیے کانگریس سےمنظوری کی خواہاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا کی بائیڈن انتظامیہ نے کانگریس سے نیٹو اتحادی ترکی کو میزائلوں اور فوجی سازوسامان کی مجوزہ فروخت کی منظوری کے لیے غیررسمی طور پررجوع کیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ہتھیاروں کا یہ پیکج انقرہ کی درخواست پر مبنی ہےاور اس میں اے آئی ایم-120 درمیانے فاصلے تک فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کے علاوہ ایف 16 لڑاکا طیاروں کے لیے ہارڈ ویئر اور سافٹ ویئرکو اپ ڈیٹس بنانے کا سازوسامان شامل ہے۔

بائیڈن انتظامیہ کا کانگریس کو نوٹی فکیشن ایک غیررسمی عمل کا حصہ ہے جو کانگریس کے ارکان کو امریکی اتحادیوں کو عوامی طور پر ناراض کرنے سے بچنے کے لیے ممکنہ ہتھیاروں کی فروخت پر خاموشی سے سوال کرنے یا منسوخ کرنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ اس پیکج کی مالیت قریباً 30 کروڑ ڈالر ہوگی۔یہ اربوں ڈالرمالیت کے اس اپ گریڈ معاہدے کے علاوہ ہے جس کی ترکی نے گذشتہ سال اکتوبر میں امریکا سے درخواست کی تھی۔اس میں ترکی نے 40 لاک ہیڈ مارٹن ایف 16 جیٹ اور اپنے موجودہ جنگی طیاروں کے لیے قریباً 80 جدیدکاری کٹس خریدکرنے کا کہا تھا۔

محکمہ خارجہ سے جب اس معاہدے کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ وہ ’’مجوزہ دفاعی سودوں پر عوامی سطح پراس وقت تک کوئی تبصرہ یا تصدیق نہیں کرتا جب تک کہ ان کے بارے میں کانگریس کو باضابطہ طور پر مطلع نہ کر دیا جائے‘‘۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکا اور ترکی کے دیرینہ اور گہرے دو طرفہ دفاعی تعلقات ہیں اور ترکی کانیٹو کے ساتھ مسلسل تعامل ہماری ترجیح ہے۔

اب چھوٹے معاہدے پر کانگریس کا کسی قسم کا ردعمل اس بارے میں بصیرت فراہم کرسکتا ہے کہ وہ ایف 16 کی فروخت کے بڑے سودے پرکیا فیصلہ کرے گی۔یہ انقرہ کی فضائیہ کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے ترکی پر2019ءمیں روسی ساختہ میزائل دفاعی نظام خرید کرنے کے ردعمل میں بعض پابندیاں عایدکردی تھیں۔ بہت سے امریکی قانون سازوں نے انقرہ کے خلاف سخت موقف اختیارکرنے پرزوردیا تھا۔اس کے نتیجے میں امریکی پابندیوں کے ساتھ ساتھ ترکی کوایف 35 لڑاکا طیاروں کے پرزوں کی تیاری کے پروگرام سے بھی خارج کردیا گیا تھا۔

ترک صدررجب طیب ایردوآن کی اقتدار پر بڑھتی ہوئی آمرانہ گرفت اور صحافیوں، وکلا اورانسانی حقوق کے محافظوں کی آزادیوں کو ختم کرنے پرامریکیوں نے اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے اور انھوں نے ترکی کو ہتھیاروں کی فروخت بند کرنے کے مطالبات کیے ہیں۔تاہم بہت سے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یوکرین پر روس کے حملے نے شاید دونوں ملکوں کوایک نیاآغاز فراہم کیا ہے۔

ترکی نے یوکرین پر روس کے حملے پرتنقید کی ہے اور روسی اعتراضات کے باوجود کیف کوڈرون فروخت کیے ہیں لیکن دوسری جانب اس نے ماسکو کے خلاف مغربی پابندیوں کی بھی مخالفت کی ہے اور یوکرین کے کچھ حصوں میں جنگی جرائم کی اطلاعات کے تناظر میں کسی بھی ملک پرالزام لگانے سے گریز کرتے ہوئے محتاط بیانات جاری کیے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ نے مجوزہ ایف 16 طیاروں اور ان کے فاضل پرزوں کی فروخت کے بارے میں عوامی طور پر کسی رائے کا اظہارکرنے سے گریز کیا ہے لیکن مارچ میں محکمہ خارجہ کی جانب سے قانون سازوں کے ایک گروپ کو لکھے گئے خط میں ترکی کے ساتھ ’’مناسب دفاعی تجارتی تعلقات‘‘ کے حق میں بات کی گئی تھی اور اس کی کھل کر حمایت نہیں کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں