.

دنیا میں کرونا محدود ہونے لگا مگر شمالی کوریا میں وبا کا آغاز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات کوشمالی کوریا نے ملک میں کرونا وائرس کے پہلے انفیکشن کے اندراج کی تصدیق کی ہے۔ اس کیس کے سامنے آنے کے بعد سرکاری میڈیا نے اسے "سنگین قومی ایمرجنسی" قرار دیا ہے۔

سرکاری کورین سینٹرل نیوز ایجنسی نے کہا کہ انفیکشن "اومیکرون" سے مطابقت رکھتا ہے جو کہ کرونا وائرس کا ایک تبدیل شدہ ورژن ہے جس میں پھیلنے کی اعلی صلاحیت ہے۔

جمعرات کے روز شمالی کوریا کے رہ نما کم جونگ ان نے ملک میں وائرس کے ساتھ پہلے انفیکشن کا باضابطہ اعلان کرنے کے بعد "ہنگامی" قرنطینہ نظام کو نافذ کرکے کوویڈ 19 وبائی مرض پر "قابو پانے" کا عہد کیا۔

کورین سنٹرل نیوز ایجنسی نے پولیٹ بیورو کی طرف سے منعقدہ ایک ہنگامی میٹنگ کے دوران کم کے حوالے سے بتایا کہ "مقصد کم سے کم وقت میں (وبائی بیماری) کی جڑوں کو ختم کرنا ہے۔"

ایجنسی نے مزید کہا کہ رہ نما نے "ہمیں یقین دلایا کہ سیاسی بیداری کی اعلیٰ سطح کی بدولت جس سے عوام لطف اندوز ہو رہے ہیں ہم یقینی طور پر ہنگامی صورتحال پر قابو پالیں گے اور ہنگامی قرنطینہ منصوبے میں کامیاب ہوں گے۔"

پرسکون موسم گرما

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکی وبائی امراض کے ماہرین نے توقع ظاہر کی تھی کہ آنے والا موسم گرما پُرسکون اور گذشتہ دو سالوں کے موسم گرما سے مختلف ہو گا کیونکہ گذشتہ دو برسوں میں کووِڈ 19 کا شکار ہونے والے افراد سے دنیا بھرمیں اسپتال بھر گئے تھے اور اموات میں غیرمعمولی اضافہ ہوا تھا۔

اگرچہ ماہرین صحت کیسوں میں اضافے کی توقع کرتے ہیں لیکن انہوں نے کہا کہ لہر "پچھلی دو گرمیوں کی طرح تباہ کن نہیں ہوگی"۔

پچھلی دو گرمیوں کے برعکس بہت سے لوگوں کو کرونا وائرس سے کچھ استثنیٰ حاصل ہوا ہے۔ یہ سب کرونا کی ویکسی نیشن مہم اور بوسٹر خوراک کی بدولت ہے جس کے نتیجے میں دنیا بھر میں کرونا کے کیسز میں کمی آئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں