.
روس اور یوکرین

ہمارے پاس یوکرین میں امریکی حیاتیاتی پروگراموں کے ثبوت موجود ہیں:روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یوکرینی سرزمین پرروسی فوجی کارروائی کے پس منظر میں روس اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافے کے ساتھ اقوام متحدہ میں روس کے پہلے فرسٹ مستقل مندوب دمتری پولیانسکی نے جمعرات کو کہا کہ ان کے ملک نے سلامتی کونسل کے اوپن سیشن کےانعقاد کی درخواست کی ہے تاکہ یوکرینی سرزمین پر روسی فوجی کارروائی کے دوران سامنے آنے والے امریکی فوجی حیاتیاتی پروگراموں کے وجود کے نئے ثبوت پیش کیے جا سکیں۔

اس نے ٹویٹر پر اپنے اکاؤنٹ کے ذریعے وضاحت کی کہ یہ اجلاس آج جمعہ کو نیویارک کے وقت کے مطابق صبح دس بجے ہونے والا ہے۔

قبل ازیں ماسکو نے تصدیق کی تھی کہ وہ یوکرین میں حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری میں ملوث افراد کی شناخت کرنے میں کامیاب رہا ہے۔

کمیٹی کے سربراہ الیگزینڈر باسٹریکن نے 3 مئی کو "RT" چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ حاصل کردہ بہت سی معلومات اور دستاویزات سے یوکرین میں فوجی حیاتیاتی سرگرمیوں سے وابستہ افراد کے حلقے کا درست انکشاف ہوا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یوکرین میں مبینہ حیاتیاتی پروگرام کو آگے بڑھانے میں یوکرین میں امریکا کے سفیر، محکمہ دفاع اورامریکی مالیاتی کمپنیاں پیش پیش ہیں۔

امریکی پیسہ اور کمپنیاں

انہوں نے انکشاف کیا کہ کمیشن کو تحقیقات سے پتا چلا کہ سنہ 2005 سے یوکرین میں حیاتیاتی پروگراموں کے لیے امریکی فنڈنگ کا تخمینہ 224 ملین ڈالر سے زیادہ ہے۔

اُنہوں نے نشاندہی کی کہ اس منصوبے کے فریم ورک کے اندر واشنگٹن نے یوکرین کی میڈیکل فورسز کمانڈ سے منسلک کئی سینیٹری-ایپیڈیمولوجیکل سہولیات کے علاوہ یوکرین کی وزارت صحت اور زراعت سے وابستہ تقریباً تیس سائنسی اداروں کو جدید آلات سے لیس کیا ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیتے ہوئے نتیجہ اخذ کیا کہ "تحقیق کے نتائج کو روسی خصوصی فوجی آپریشن کے آغاز سے پہلے کیف حکام کے زیر کنٹرول علاقوں میں منتقل کر دیا گیا تھا۔"

قابل ذکر ہے کہ مغربی پڑوسی کی سرزمین پر شروع کیے گئے روسی فوجی آپریشن کے پہلے دنوں سے ہی واشنگٹن اور ماسکو کے درمیان یوکرین میں حیاتیاتی یا بین الاقوامی طور پر ممنوعہ ہتھیاروں کے استعمال کے باہمی الزامات سامنے آئے ہیں۔

روس کی جانب سے امریکا پر حیاتیاتی ہتھیاروں کی تیاری کے لیے لیبارٹریز کے قیام میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیے جانے کے بعد امریکا نے اس معاملے کو یکسر مسترد کیا ہے۔

بعد میں اس نے روسی افواج پر بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال، یوکرین کی سرزمین پر قتل عام اور جرائم کا ارتکاب کرنے کا الزام لگایا مگر ماسکو نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں